12 اگست 2011
وقت اشاعت: 3:13
سندھ میں حالیہ بارشوں سے بجلی کا نظام شدید متاثر
جنگ نیوز -
حیدرآباد. . . . .. . . . سندھ میں حالیہ بارشوں نے بجلی کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی بجلی بحال نہیں ہوسکی۔ حیدرآباد میں مشتعل شہریوں نے حیسکو کے دفتر کو آگ لگادی۔حیدرآباد میں آفندی ٹاوٴن ، پریٹ آباد ، لطیف آباد نمبر دو ، لطیف آباد نمبر سات اور دیگر علاقوں میں بارش کے بعد کئی گھنٹے بجلی غائب رہی۔ بعض علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا کھیل اب بھی جاری ہے۔ لطیف آباد نمبر دو میں اٹھارہ گھنٹوں بعد بجلی بحال کی گئی جو چند گھنٹے بعد دوبارہ معطل ہوگئی۔ بجلی کی دوبارہ بندش پرمشتعل افراد نے حیسکو کے دفتر کو آگ لگادی۔جام شورو میں منگل سے بجلی کی فراہمی بند ہے۔ حیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی مختلف مقامات پر تار ٹوٹنے اور کھمبے گرنے کی وجہ سے معطل ہے۔ بجلی نہ ہونے سے ضلع جام شورو میں پینے کے پانی کی شدید قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ضلع ٹنڈو الہیار میں بدھ کو بارش شروع ہونے کے ساتھ بجلی معطل ہوگئی تھی۔ گذشتہ دو روز کے دوران صرف چند گھنٹوں کے لئے ہی بجلی فراہم کی گئی۔ پمپنگ اسٹیشنز بند ہونے سے تالاب کا منظر پیش کرنے والے علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی بھی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔بدین میں بھی موسلادھار بارشوں نے شدید تباہی مچائی اور بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ بدین شہر، ماتلی، گولارچی اور دیگر علاقوں میں 48 گھنٹوں کے دوران صرف چند منٹوں کے لئے بجلی فراہم کی گئی۔ اس صورت حال نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔