12 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:5
امریکا کے فوجی کارروائیوں پرماہانہ 13ارب ڈالرسے زائد کے اخراجات
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…امریکا کے افغان جنگ پر 6ارب 70کروڑ ڈالر،عراق جنگ پر 6ارب 20کروڑ ڈالر،پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر فوجی امداد کی شکل میں30کروڑ ڈالر اور لیبیا کی فوجی جنگی کارروائیوں پر 6سے8کروڑ ڈالر ماہانہ اوسطاً اخراجات ہو رہے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عراق اور افغانستان کے مقابلے میں لیبیا کی جنگ امریکا کو سستی پڑ رہی ہے ، قذافی کے خلاف فوجی کارروائیوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے امریکا پر مالی بوجھ میں بہت اچھا ہو جائے گا ، 19 مارچ کوجب بین الاقوامی اتحاد نے لیبیا کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تو یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ اس سے ممکنہ اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا۔ امریکی سینیٹر رچرڈ لوگر نے خبردار کیا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم مزید جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔اس تشویش میں اضافے کی حقیقی وجہ امریکاکا قومی قرض ہے جو افغانستان اور عراق کی جنگوں کی صورت حال سے پیدا ہوا۔9/11کے بعد مجموعی طور پر دونوں جنگوں پر پنٹاگون کے 1.3ٹریلین کے کم از کم اخراجات ہوئے۔امریکا کے عراق جنگ پراوسط ماہانہ اخراجات6.2ارب ڈالر جب کہ افغان جنگ کے ماہانہ اخراجات6.7ارب ڈالر میں پڑ رہے ہیں۔جب کہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کرنے اور دیگر فوجی امداد کی شکل میں امریکااوسطاً ماہانہ 300ملین ڈالر پاکستان کو دے رہا ہے۔ لیبیا کی جنگ پر امریکا 60سے80ملین ڈالر ماہانہ کے حساب سے خرچ کر رہا ہے اور اب تک لیبیا پر امریکی جنگی فوجی اخراجات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔