17 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:18
کراچی:بدامنی کے واقعات ،خون کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی میں بدامنی اور تشدد شہریوں اور حکومت کے لئے تو تشویش کا باعث ہے ہی لیکن اس صوتحال سے شہر کے بلڈ بینک مشکلات کا شکار ہورہے ہیں۔ کیونکہ زخمیوں کے علاج کے لئے خون کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔کراچی کے 83 بلڈ بینک سمیت ملک میں تقریباً 306 رجسڑڈ ادارے انتقال خون کا کام کر رہے ہیں۔ جو تھیلیسیمیا کے 65 ہزار مریضوں کے علاوہ ڈیلیوری کیسز اور مختلف نوعیت کی بیماریوں کے آپریشنز کے لئے بڑی مقدار میں خون فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں کے لئے خون کی معمول کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اب کراچی کی بدامنی میں زخمی ہونے والوں کے لئے خون پورا کرنا مشکل ہورہا ہے اور خون کی طلب 25 سے 30 فیصد بڑھی ہے۔کراچی میں صرف جولائی میں پونے پانچ سو افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ رواں ماہ یہ تعداد دس افراد یومیہ ہے۔ ان میں لگ بھگ ڈھائی سو افراد ابھی بھی مختلف سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں ان کے مختلف آپریشنز کے لئے خون کی ضرورت بھی یہی بلڈ بینک پوری کر رہے ہیں۔حکومتی اور سیاسی کوششوں کے باوجود کراچی میں بدامنی پر قابو نہیں پایا جا رہا۔ لیکن انسانی حقوق کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ شہری خون کے عطیات کے ذریعے زخمی ہونے والوں کی زندگیاں بچا کر کراچی کے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں۔