تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:54

بدین میں صورتحال مزید خراب ، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

جنگ نیوز -
حیدرآباد . . . . . سندھ میں طوفانی بارشوں کے بعد خوفناک تباہی سے متاثر ہونیوالوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بدین میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے جبکہ ملحقہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔سندھ میں بارشوں سے آنیوالی تباہی کے اثرات ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ مزید واضح ہوتے جارہے ہیں۔ بدین میں رات کی بارش کے بعد صورتحال ایک بار پھر مخدوش ہوگئی ہے۔ ولاسانی سیم نالے میں شگاف کے بعد ریلے سے مزید 5دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ ولاسانی سیم نالے کا ریلہ کراچی بدین ہائی وے کے پشتوں سے ٹکرا رہا ہے۔ضلع خیرپور میں حالیہ بارش سے چھ ہزار سے زیادہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ ڈی سی او عباس بلوچ کے مطابق دس لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔ کپاس کی فصلیں سو فیصد ختم ہوگئیں۔ فیض گنج میں پاک فوج طلب کرلی گئی ہے۔ ناراسانگھڑ، ناراسکھر، ناراخیرپور کی سڑکیں بہہ جانے سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔ میرپورخاص میں آر ڈی 317 کے مقام پر سیم نالے میں پانی کا دباوٴ بڑھتا جارہا ہے جس سے نوکوٹ شہر کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ ادھر اولڈ سٹی اور سیٹلائٹ ٹاوٴن کو آپس میں ملانے والا واحد ریلوے سب وے برج بھی 8 فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ضلع ٹھٹھہ کی تحصیلوں میر پور بٹھورو اور جاتی کے پچاس سے زائد دیہات زیر آب ہیں جبکہ متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ضلع گھوٹکی میں سب سے زیادہ متاثرہ تحصیل اوباڑو میں بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ دادو میں راستے بند ہونے کے بعد سبزیوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ادھر جامشورو میں موسلادھار بارش کے بعد رنی کوٹ ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی حد سے تجاوز کرگئی ہے۔ ڈیم کے دو دروازے ٹوٹنے سے ریلوے ٹریک کا ایک کلو میٹر حصہ جبکہ دو سو سے زائد دیہات زیر آب آگئے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.