5 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:16
کراچی میں بلا تفریق کارروائی کرنا ہوگی، چیف جسٹس کا آئی جی کو حکم
جنگ نیوز -
کراچی . . . . . چیف جسٹس آف پاکستان نے کراچی میں بد امنی پرازخود نوٹس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ سے استفسار کیاکہ اب تک شہرمیں کتنے ٹارچرسیل دریافت کئے گئے؟کتنے ملزمان کو پکڑا گیا؟اوربازیاب ہونے والوں کے بیانات کاکیاہوا؟چیف جسٹس افتخار محمدچودھری نے آئی جی سندھ کو حکم دیا کہ تشدد کی فوٹیج عدالت میں پیش کی جائے اور مجرموں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کے روبرو اے این پی کے وکیل افتخار حسین گیلانی نے کہا کہ وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ کراچی میں قتل وغارت گری کی وجہ لسانی نہیں، سب جانتے ہیں کہ 12مئی کے واقعات کے پیچھے کون تھا۔افتخار گیلانی نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کے بیانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی اخباری رپورٹ کی تردید نہ کی جائے توخان عبدالولی خان کیس کے مطابق اس رپورٹ کے مندرجات صحیح ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ یہ ازخود نوٹس ہے لیکن نام لے کر ذمہ داری ڈالی جارہی ہے۔افتخار گیلانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وجوہات کا تعین کرکے علاج ڈھونڈاجائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈبے سے لاشیں ملی، ایک کو زندہ جلادیا گیا ، بوری سے ایک اور شخص زندہ ملا ، پولیس نے کچھ نہیں کیا ۔افتخار گیلانی نے تجویز دی کہ اس کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے التواء میں رکھا جائے اور نگرانی کیا جائے ،حکومت کیا کررہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے قبل عبدالحفیظ پیرزادہ حکومت کو ویک اپ کال دینے کی تجویز دے چکے ہیں جبکہ عدالت کا کام آئین کا نفاذ ہے۔بعد میں سندھ بچاوٴ کمیٹی کے وکیل مجیب پیرزادہ نے دلائل میں الزام عائد کیاکہ ذوالفقار مرزانے تین لاکھ اسلحہ لائسنس صرف دکھانے کے لئے نہیں استعمال کے لئے جاری کئے جبکہ وزیر اعظم گیلانی نے توخطرناک ہتھیاروں تک کے لائسنس جاری کئے جن میں مشین گن،جی تھری، ایل ایم جی ، کلاشنکوف اوزی اسرائیلی ہتھیار شامل ہیں ۔ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ کمانڈ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بجائے شخصیت کے پاس ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے غیر قانونی اسمبلی کا سوال نہیں بلکہ ہمارے سامنے گوریلا وار کا مسئلہ درپیش ہے۔دوران سماعت آئی جی سندھ نے بتایا کہ رہا ہونے والے سولہ مغوی افراد نے اپنا بیان لکھوایا کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی۔جس پرچیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیاکہ اب تک کتنے ٹارچرسیل دریافت کئے گئے؟کتنے ملزمان کو پکڑا گیا؟اوربازیاب ہونے والوں کے بیانات کاکیاہوا؟ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری نے آئی جی سندھ کو تشدد کی فوٹیج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل صبح تک ملتوی کردی۔