7 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 11:31
کراچی بدامنی :سیاسی ،لسانی جماعتوں کے عسکری گروپ ملوث ہیں،ڈی جی رینجرز
جنگ نیوز -
کراچی… ڈی جی رینجرزمیجرجنرل اعجازچوہدری نے سپریم کورٹ میں بیان دیاہے کہ سیاسی اورلسانی جماعتوں کے عسکری گروپ شہر کی بدامنی میں ملوث ہیں،جرائم پیشہ افرادسیاسی جھنڈوں کی آڑ میں کارروائی کرتے ہیں۔کراچی کامسئلہ شمالی وزیرستان سے زیادہ پیچیدہ ہے، اس سلسلے میں فوجی طریقہ عارضی جبکہ سیاسی طریقہ کار مستقل حل ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ڈی جی رینجرزنے مطالبہ کیا کہ رینجرز کو دیئے گئے اختیارات امن و امان کے مستقل قیام تک جاری رہنا چاہئیں۔دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس حکام سے سوال کیا کہ اب بھی لوگ آرہے ہیں کہ ان کے لوگ اغوا ہیں، یہ سب کیسے روکیں گے آپ؟ڈی آئی جی ایسٹ نے عدالت کو بتایاکہ گلا کٹی اور تشدد زدہ لاشیں ملنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کواپنی ناکامی تسلیم کرنا چاہیے، دہشت گردی کی دفعات لگانا کارکردگی نہیں ملزمان تک پہنچنا ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی پولیس کو کہا کہ آپ یہاں سیاسی تقریر نہ کریں قانون کے دائر میں کوئی بات ہے تو کریں، جتنے کیسز دیکھے ہیں ان میں زیادہ تر اے کلاس ہورہے ہیں۔ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کے کہ مقدمات کے اے کلاس ہونے کی وجہ گواہوں کا نہیں آنا ہے۔بعد میں پنجابی پختون اتحاد کے سربراہ عرفان اللہ مروت نے عدالت میں بیان دیا کہ سب جھگڑوں میں ایم کیو ایم ملوث ہے۔ پولیس کو مفاہمت کے نام پر مجبور کردیا گیا ہے۔پولیس پر دباوٴ ڈالا جاتا ہے کہ اس کا نام ڈالو اور اس کا نکال دو۔ عرفان اللہ مروت نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کی شہر میں موجودگی کے باوجود بوری بند لاشیں مل رہی ہیں اپ چلیں جائیں گے تو کیا ہوگا، بقرعید آنے والی ہے کھالوں پر بھی لوگ مارے جائیں گے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وکیل اقبال حیدر نے عدالت میں بیان دیا کہ بے نظیر بھٹو نے چیف جسٹس افضل ظلہ کی سربراہی میں کراچی کے واقعات پر ایک کمیشن بنایا تھا لیکن اس کی کارروائی سے پہلے ان کی حکومت ختم کردی گئی۔ انہوں نے بتایاکہ پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کے تحت لسانی اور فرقہ وارانہ پارٹیوں پر پابندی تھی لیکن ایم کیوایم نے حق پرست کے نام سے الیکشن میں حصہ لیا۔ اقبال حیدرنے سپریم کورٹ کو تجویز دی کہ جب صدر اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوں ،صوبائی حکومت آرٹیکل 147 کے تحت فوج نہ بلانا چاہے ، وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھیجنے پر آمادہ نہ تو سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 119 پر عملدرآمد کا راستہ بچ جاتا ہے۔