تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
7 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:5

ڈی جی رینجرز نے کراچی کو وزیرستان سے زیادہ خطرناک قرار دیدیا

جنگ نیوز -


کراچی…ڈی جی رینجرزسندھ میجر جنرل اعجاز چوہدری نے کراچی کو وزیرستان سے زیادہ خطرناک قرار دیدیا ہے انہوں نے یہ انکشافسپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے روبرو کیا۔ڈی آئی جی پولیس نے عدالت کوبتایاکہ گلہ کٹی اور تشدد زدہ لاشیں ملنے پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں موجود ہیں اور اب تک لاشیں مل رہی ہیں۔ پولیس کواپنی ناکامی تسلیم کرنا چاہیے ،دہشت گردی کی دفعات لگانا کارکردگی نہیں ملزمان تک پہنچنا ضروری ہے انتظامیہ ڈلیور نہیں کرسکی ہے۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے پولیس افسران سے کہاکہ آپ مانتے کیوں نہیں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے۔ہم یہاں موجود ہیں لیکن لاشیں ملنے کا سلسلہ بند نہیں ہورہا،حکومت ناکام ہوچکی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس حکام سے سوال کیا کہ اب بھی لوگ آرہے ہیں کہ ان کے لوگ اغوا ہیں یہ سب کیسے رکے گا۔ڈی جی رینجرز اعجاز چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی اورلسانی جماعتوں کے عسکری گروپ شہر کی بدامنی میں ملوث ہیں،جرائم پیشہ افرادسیاسی جھنڈوں کی آڑ میں کارروائی کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ کراچی کا مسئلہ وزیرستان سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ رینجرز کراچی میں مستقل بنیادوں پر امن و امان کا مسئلہ حل کرسکتی ہے رینجرز کو دیئے گئے اختیارات امن و امان کے قیام تک جاری رہنا چاہئیں۔ڈی جی رینجرز نے عدالت کومزید بتایا کہ پہلے رینجرز کے اختیارات محدود تھے۔ اب سیاسی دفاتر میں پناہ لینے والے ملزمان اور ناجائز اسلحہ کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ شہر میں سیاسی جھنڈوں کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اور جرائم پیشہ عناصراس کی آڑ لے کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ ڈی جی رینجرز نے تجویز دی کہ شہر کے معززین کی باڈی بنائی جائے جو وزیر اعلیٰ کو جوابدہ ہواور یہ کمیٹی شہر میں امن و امان سے متعلق پروگیس رپورٹ ہر چھ ماہ میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو پیش کرے۔میجرجنرل اعجاز چوہدری نے کہا کہ امن وامان کے سلسلے میں فوجی حل عارضی ہے جبکہ سیاسی مذاکرات مستقل حل ہے۔چیف جسٹس نے سندھ حکومت کے وکیل عبدالحفیظ پیرزاہ سے کہا کہ کراچی میں امن وامان کاقیام سنجیدہ اور سنگین مسئلہ ہے جسے حل کرنا ضروری ہے جمعے تک سماعت کریں گے اورضرورت پڑی تومسئلے کے حل تک آتے رہیں گے۔سپریم کورٹ کی لارجر بنچ میں سماعت کے دوران کل متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے قاضی خالد علی ایڈوکیٹ دلائل دیں گے جبکہ اٹارنی جنرل مولوی انوارلحق نے بتایا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے بھی کل لارجر بنچ کو بریفنگ دی جائے گی۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.