7 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:5
ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرائز طریقوں سے محفوظ بنایا جائے،قائم علی شاہ
جنگ نیوز -
کراچی… سید منہاج الرب…و یراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبہ سندھ کے لینڈ ریونیو ریکارڈ کو بہتر انداز سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس ضمن میں بورڈ آف ریونیو پر بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید کمپیوٹرائز نظام کے ذریعے اسکی مکمل حفاظت کرے تاکہ زمین کے مالکان اور کھاتیداروں کو کوئی دشواری پیش نہ آسکے۔ وہ بدھ کو ریونیوہاؤس شیریں جناح کالونی کراچی میں سندھ کے لینڈریونیوریکارڈ کیلئے قائم کردہ کمپیوٹرائیز پروگرام کی افتتاحی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز سسٹم کے تحت درست طریقے سے محفوظ بنانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ زمین مالکان کو انکے اصل اور صحیح دستاویزات کے حصول میں مدد مل سکے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ریونیوکے پرانے دستاویزات و اندراجات اس وقت خستہ حالت میں ہیں، لہٰذامتعلقہ افسران کو چاہئے کہ وہ ان دستاویزات کے نقول کے داخلے اور ترتیب کو درست رکھنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیں۔انھو نے اس ضمن میں بورڈ آف ریونیو سندھ کی کاوشوں کو بھی سراہاجوکہ اس اہم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے نادرا کا تعاون بھی حاصل کر رہا ہے اور کہاکہ اب حکومت سندھ صوبے کے شہری اور دیہاتی اراضی کا مطلوبہ ریکارڈ شفاف طریقے سے مرتب کرے گی۔قبل ازیں سینئر میمبر بورڈ آف روینیو سندھ شاذر شمعون نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس پراجیکٹ کا مقصدجدید ٹیکنالوجی کو متعارف کراتے ہوئے سیٹ لائیٹ کے ذریعے زمینی سطح کی عکاسی کے حصول اور ایک سو سال سے پرانے ریونیو ریکارڈ کی جانچ بڑتال اور اسے محفوظ بنایا جائے گا،جی آئی ایس کمپونینٹ کے ذریعے ان کے سافٹ ویئر کے کاروبار ، سندھ کے 23 اضلاع ، 121 تحصیلوں اور 6970 دیہوں کے ڈجیٹل نقشہ جات، فیلڈ سروے، 216 گراؤنڈ کنٹرول پوائنٹ کی تشکیل اور جیو -ڈیٹابیس سمیت LARMIS اور رجسٹریشن ڈیٹابیس کو مکمل کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیز1- کے تحت پائلٹ پروجیکٹ کی تکمیل اور 100 فیصد تمام اضلاع اور تحصیلوں کے علاوہ 30 فیصد دیہوں کے نقشے مکمل تیار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ ریکارڈ کو مواصلاتی نظام کے ذریعے رجسٹریشن ڈیڈکمپینوں سے بھی الیکٹرانیکی طور پر منسلک کیا جائیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سسٹم انشورنس انڈسٹری کی زمین کی مالکی کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا جبکہ مائیکرو فنانس کے ذریعے غریب کاشتکاروں کیلئے بھی کم قیمت میں دستیاب ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت سندھ کی جانب سے ایک مزید پراجیکٹ کا اعادہ کر رہی ہے جوکہ ایک سال کے اندرمکمل کیا جائے گا، جس کے ذریعے رشوت ستانی اور خردبرد کی روکتھام اور شفاف عمل کو یقینی بنانے کے علاوہ عام لوگوں کو ریلیف فراہم ہوسکے گا۔