تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
12 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:47

ریٹائرڈجج2 سال تک ملازمت نہیں کر سکتے، چیف جسٹس

جنگ نیوز -


اسلام آباد… چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ریٹائرمنٹ پر انتہائی مناسب مراعات حاصل ہوتی ہیں ، اس لیئے ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد نئی ملازمت کے حصول کے لئے کوشش نہیں کرنا چا ہیئے ۔ اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 207 کے تحت کسی بھی اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ جج پر نئی ملازمت کے حصول کے لئے 2 سال کی پابندی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے مقدمات پر توجہ دینا ہوگی اور اس وقت سپریم کورٹ میں 19323 مقدمات زیر التوا ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یکم جون 2009 کو سپریم کورٹ ، فیڈرل شریعت کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں 18 لاکھ مقدمات زیر التوا تھے، اب یہ تعداد کم ہوکر 14 لاکھ ہوچکی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے لارجز بنچز کے سامنے اہم آئینی مقدمات زیر التوا ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے اور اس کے قیام کے بعد سے جوڈیشل کمیشن کے 23 اجلاس ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں میں اعلیٰ عدلیہ کے 100 ججز کو تقرر کرنے کی سفارش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی ، بد امنی ، انتہا پسندی اور امن امان کی صورتحال کے باوجود یہ حقیقت قابل اطمینان ہے، ہم قوم محب وطن ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مسقتبل میں ایسا نظام مرتب کریں جو مساوات ، آزادی ، برداشت ، سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف پر مبنی ہو۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی سی او ججز کی برخاستگی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں لیکن بطور وکیل انتقام کی بجائے انصاف پر یقین رکھنا چاہیئے، ان افراد پر عمر بھر کے لئے داغ نہیں لگا دینا چاہیئے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.