تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 18:29

کراچی: جناح اسپتال میں بجلی بند، آئی سی یو میں زیرعلاج 4 مریض جاں بحق

جنگ نیوز -


کراچی …جناح اسپتال کراچی سمیت متعدد اسپتالوں میں بارش کا پانی کئی کئی فٹ جمع ہے، جبکہ جناح اسپتال میں چودہ گھنٹے تک بجلی بندرہی، انتظامیہ نے جنریٹرچلانے کیلیے ڈیزل بھی نہیں خریدا، جس کے باعث آئی سی یو میں زیرعلاج چار مریض انتقال کر گئے۔بارش کے دوران گزشتہ شب جناح اسپتال کے بجلی کے سب اسٹیشن میں دھماکاہوا تھا جس کے بعد بجلی بند ہو گئی جو چودہ گھنٹے گزرنے کے بعد بحال ہوئی، اس دوران اسپتال کے تمام وارڈز، انتہائی نگہداشت کے شعبے، ایمرجنسی اور رہائشی علاقے تاریکی میں ڈوبے رہے۔ عام طور پر بجلی جانے کی صورت میں جنریٹرز کے ذریعے اسپتال کو بجلی فراہم کی جاتی ہے لیکن اس بار جنریٹرز نہیں چلائے گئے ، وینٹی لیٹرز بند ہونے کے باعث شعبہ نیوروسرجری کے آئی سی یو میں زیرعلاج چار مریض انتقال کر گئے۔وینٹی لیٹرز بند ہونے سے انتقال کر جانے والوں میں کراچی کا رہائشی آٹھ سالہ نعمان، ساٹھ سالہ جعفر، حیدرآباد کا رہائشی اٹھارہ سالہ نوجوان ثاقب اور تھرپارکر کا ساٹھ سالہ حاجی محمد شامل ہیں۔ یہ مریض حادثات اوردماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے زیرعلاج تھے۔ بجلی نہ ہونے سے دیگر وارڈز میں زیرعلاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہا۔جناح اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بجلی کے سب اسٹیشن میں گزشتہ شب دھماکے کے بعد بجلی بند ہو گئی تھی،ڈیزل نہ ہونے کے باعث جنریٹربھی نہیں چلایا گیا۔ اسپتال پہلے ہی پٹرول پمپ کے سولہ لاکھ روپے کا مقروض ہے، مزید ڈیزل خریدنے کے لیے ان کے پاس رقم نہیں۔ ادھر کے ای ایس سی ترجمان کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال میں اندرونی خرابی کے باعث بجلی بند ہوئی ، جسے ٹھیک کرنا اسپتال کی ذمہ داری ہے،کے ای ایس سی کی جانب سے ایک گھنٹے کیلئے بھی بجلی بند نہیں کی گئی، چار مریضوں کی ہلاکت کا سیکریٹری صحت سندھ رضوان احمد نے نوٹس لیا ہے۔جیو نیوز سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریضوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرائی جائیگی، اسپتال انتظامیہ نے انہیں بتایا آدھے گھنٹے کے اندر دوہزار لٹر ڈیزل فراہم کرا دیا گیا، سیکریٹری صحت سندھ نے کہا کہ اگر بجلی رات سے نہیں تھی تو اسپتال انتظامیہ نے محکمہ صحت سندھ کو پہلے کیوں نہیں بتایا، ذمہ داروں کا تعین کیا جائیگا، ان کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال جب وفاقی وزارت صحت کے ماتحت تھا تو اس وقت یہ بحران کبھی کیوں پیدا نہیں ہوا۔ بارشوں کے باعث جناح اسپتال ،، قومی ادارہ برائے امراض قلب اور قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے مرکزی راستوں اور مختلف وارڈز کے باہر کئی کئی فٹ پانی جمع ہو گیا ہے، اسپتال کے شعبہ حادثات کے باہر گٹر بھی ابلتے رہے۔شہر کے دیگر علاقوں کی طرح اسپتالوں میں بھی بارش کا پانی کئی کئی فٹ تک کھڑا ہے جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس پانی کی نکاسی کے لیے اب تک کوئی موٴثر اقدامات نہیں کیے گئے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.