15 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 14:10
امریکی وزیر دفاع کابیان پاک امریکا تعاون کیخلاف ہے، دفتر خارجہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد...پاکستان نے ایمن الظواہری کی موجودگی سے متعلق امریکی بیان کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بروقت معلومات کا تبادلہ ضروری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرحد پارسے پاکستان پر شدت پسندوں کے حملوں کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی عہدیداروں کے پاکستان مخالف بیانات پر ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے ،دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکا مل کر کام کررہے ہیں اور یہ تعاون جاری رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر 17 ستمبر سے امریکا کا دورہ کریں گی جہاں وہ 18 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے بھی ملاقات کریں گی،دورے کے دوران وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے رابطوں کے علاوہ سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کے حصول کے لیے پاکستان کی لابنگ بھی کریں گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکا ابھی طے نہیں ہوا، سرحد پار سے پاکستان پر شدت پسندوں کے حملوں کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے جب کہ مغوی پاکستانی بچوں کی بازیابی کے لیے وزارت داخلہ، افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر بات چیت جاری ہے۔