15 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 17:57
پولیس مجرموں کیخلاف اقدامات سے روزانہ آگاہ کرے،سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
کراچی … سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی از خود نوٹس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جبکہ عبوری حکم کے ذریعے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں جمع کرانے، ان مقدمات کی سماعت کرنیوالی عدالتوں کو روزانہ سماعت کرکے جلد از جلد فیصلے کرنے اور صوبائی حکومت کو تفتیش، استغاثہ اور عدالتوں کی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بھتہ خوری کافی کم ہوگئی ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ماتحت چاروں ڈی آئی جیز سے تحریری سرٹیفکیٹ لیں کہ بھتہ خوری پر قابو پالیا گیا ہے۔وفاق کے وکیل با بر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ کراچی کے ایک سو بارہ تھانوں میں سے صرف تیس تھانوں میں امن وامان کا مسئلہ ہے ،جسٹس سرمد جلال عثمانی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کا کریڈیٹ پولیس کو نہیں جاتا بلکہ وجہ یہ ہے کہ اْن علاقوں میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ کراچی میں ہر چیز ناکام ہوگئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت اس صورتحال کی ذمہ دار نہیں۔ مہذب ملکوں میں مجرموں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاتی اس شہر میں 20 سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اپنی ذمہ داری دیکھنے کیلئے اپنی ہی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پڑھ لیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آج یہ ازخود نوٹس ختم کردیتے ہیں کیا آپ یقین دلا سکتے ہیں کہ حالات سدھر جائیں گے۔بابراعوان نے عدالت کوجواب دیاکہ کیاآپ کویقین ہے کہ اس کارروائی کے بعد حالات میں بہتری آجائیگی جب بابر اعوان نے کہا کہ ملک میں تین دفعہ آمروں نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے آپ کو مضبوط کیاتو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب کچھ ہم نے دفنادیاہے اب ایساکبھی نہیں ہوگا۔عدالتیں کام کررہی ہیں جس دن عدالتیں لپیٹنے کی کوششں کی گئی سب کچھ ختم ہوجائیگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہنا کہ آئین میں مسئلے کا حل نہیں تھا اس لیے ماورائے آئین اقدام کیا گیا اب کسی بھی صورت قابل قبول نہیں،بابراعوان نے جواب دیاکہ اگرچہ آرٹیکل234کے تحت صدرمملکت بااختیار ہیں لیکن حکومت ایک لمحے کیلئے بھی عدالتوں کے اختیارت معطل کرنا نہیں چاہتی۔سماعت کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری،جسٹس انور ظہیر جمالی،جسٹس سرمد جلال عثمانی،جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔