19 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 3:18
سندھ : بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہے ،لاکھوں متاثرین امداد کے منتظر
جنگ نیوز -
بدین.. .. ... .بارشوں اورسیلاب کے باعث سندھ کے بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہے جسے نکالنے کے اب تک اقدامات نہیں کیے گئے،لاکھوں متاثرین امداد کے منتظر ہیں جبکہ وبائی امراض پھیلنے سے ان کی زندگیاں داوٴ پر لگی ہوئی ہیں۔ضلع بدین کے بیشترعلاقوں میں کئی فٹ پانی کھڑاہے،پنگریو اور ملکانی کے علاوہ کئی قریبی دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ایک ماہ سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے،ایل بی او ڈی سیم نالے کے پشتے کمزور ہونے کے باعث کئی دیہات زیرآ ب آگئے، متاثرہ علاقوں سے صحرائے تھر کے ٹیلوں پر پناہ لینے والے ہزاروں خاندان بھوک اور پیاس کا شکار ہیں اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں،ضلع خیر پور میں کپاس اور مرچ کی فصل مکمل طورپرتباہ ہوگئی۔جی او سی پنوں عاقل میجر جنرل اصغر نواز نے گوٹھ عثمان وند اور سیلاب سے متاثرہ دیگرعلاقوں کا دورہ کیا اور پاک فوج کی جانب سے جاری امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔اس موقع پرانھوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پاک فوج متاثرین کے ساتھ ہے۔میرپورخاص، سانگھڑ، شھدادپور، ٹنڈوآدم، کھپرو، ڈگری، جھڈو، نوکوٹ، عمرکوٹ، سامارو اور کنری سمیت بیشتر شہروں سے بارش کا پانی نکالا نہیں جاسکا، ان علاقوں میں تیزی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 60 فیصد لوگ پیٹ کے امراض جبکہ 20 فیصد جلدی امراض میں مبتلا ہیں،دادو، میھڑ، کے این شاہ اور جوہی کے اطراف بھی سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں،دادو مورو پل پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث کچے کے درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں، صوفی بزرگ مخدوم بلاول کا مزار پانی میں گھرا ہوا ہے اور لوگوں نے درگاہ کے اطراف مٹی کا بند باندھ دیا ہے،واہی پاندھی اور قصبو سمیت کاچھو کے دیہات کا کئی روز سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔