27 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 11:40
پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ ناکام نہیں ہو سکتا؟امریکی اخبار کا مضمون
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل ‘ میں شائع ہونے والے مضمون ”کیا پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ ناکام نہیں ہو سکتا؟“ میں پاکستان ا ور فوج کے خلاف زہر افشانی اور الزامات لگائے گئے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے دھمکی اور جارحانہ انداز جس کی معیشت رومانیہ کے حجم برابر ہے سمجھ سے بالا ہے۔کالم نگار SADANAND DHUME نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان امریکا سے پیچھے ہٹ رہا ہے،پاکستان سے نیٹو کی رسد دوسال پہلے کی نسبت 80فی صد کم ہو گئی ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ پاکستان کی فوج اگر دشمن نہیں تو مشکل ضرور ہے ،پاکستان کی حکمراں اشرافیہ اورجرنیلوں کے نزدیک پاکستان جغرافیائی سیاست میں برابر کی اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے پاکستان کوناکامی سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔مضمون میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسلام آباد پر تشدد انتہا پسندی کو پالیسی آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے، حقانی نیٹ ورک پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک حقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکی فوج کے کمانڈر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے گزشتہ ہفتے سینٹ میں سخت اور واضح بیان کہ حقانی نیٹ ورک کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے تعلقات ہیں نے حیران کر دیا۔ اوباما انتظامیہ میں مائیک ملن طویل عرصے سے پاکستان کے بہترین دوست کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔ ایڈمرل مولن نے الزام لگایا کہ اسلام آباد پر تشدد انتہا پسندی کو پالیسی آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ امریکی سفارت خانے اور 13 ستمبر کو کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹر پر حملے ،جن میں 25 افراد کو ہلاک کر دیا گیا ، نیٹو کی چوکی کے ایک ٹرک پربم حملے جیسی کارروائیوں پر امریکا نے الزام عائد کیا کہ اس میں براہ راست پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ملوث ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی حمایت کے ساتھ حقانی گروپ کے عسکریت پسندوں نے منصوبہ بندی کی اور تمام کارروائیوں کومنظم کیا ہے۔ایڈمرل کے مطابق امریکی حکام کو یقین ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان سے اپنی کارروائیاں کرتا ہے اور افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملوں میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے۔مضمون نگار الزام لگاتے ہوئے کہتا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے یہ حیران کن خبر تھی جس میں واضح طور پر اسلام آباد کو خبر دار کیا گیا کہ امریکا کی برداشت جواب دے رہی ہے۔اب تک پاکستان کی طرف سے یہ وارننگ نظر انداز کر دی گئی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے خبردار کیا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کامتحمل نہیں ہو سکتا۔ مضمون میں الزام لگاتے ہوئے لکھا گیا کہ 18کروڑ کی آبادی کا اسلامی ملک دنیا کی سب سے تیز ترین جوہری قوت بن کرسامنے آیا،جہادی گروپوں کے ساتھ قربت، چین کے ساتھ ہر موسم میں دوستی اور افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے سپلائی روٹس مہیا کرنے کی وجہ امریکا اس سے افغانستان اور عراق کے برعکس برتاوٴ کرتا ہے۔تعلقات کی کشیدگی سے اب پاکستان خود ہی پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اب امریکا نے دو حقائق کو قبول کر لیا ہے کہ پاکستان کی فوج اگر دشمن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ دوسر اا مریکا صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے اگر راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے جرنیلوں یہ یقین کرنا چھوڑ دیں کہ امریکا صرف پلکیں جھپکاتا ہے۔