30 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 10:42
این آئی سی ایل اسکینڈل، تفتیشی افسر ظفر قریشی کی عبوری رپورٹ پیش
جنگ نیوز -
اسلام آباد… ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ظفر قریشی نے این آئی سی ایل سکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ پیش کر دی جس میں کہا گیا کہ ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹیری داخلہ نے ملی بھگت سے ملزمان کو فائدہ پہنچایا گیا اور یہ کہ مونس الہٰی کے غیر ملکی اکاوٴنٹس کی اوریجنل رپورٹ گم ہوگئی ہے ۔ این آئی سی ایل سکینڈل کے تفتیشی افسر ظفر قریشی نے سپریم کورٹ میں سو صفحات پر مشتمل عبوری رپورٹ پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عبوری رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹیری داخلہ نے ملی بھگت سے ملزمان کو فائدہ پہنچایا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور اور ایڈیشنل ڈائریکٹر لیگل نے جعلی خط لکھا کر دو کروڑ روپے سے زیادہ کی منجمد رقم کو غیر منجمد کرایا ۔ دونوں افسران کے خلاف تفتیش مکمل کرلی گئی او دونوں اس میں ملوث پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے ان افسران کے خلاف پرچہ درج کرنے کی اجازت نہیں دی۔عبوری رپورٹ کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے حبیب اللہ وڑائچ اور ان کی فیملی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تھا تاہم حبیب اللہ وڑائچ کو6ستمبر2011 کو کراچی سے بیرون ملک بھجوادیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مونس الہٰی کے غیر ملکی اکاوٴنٹس کی اوریجنل رپورٹ گم ہوگئی ہے۔ڈی جی ایف آئی سے مونس الہٰی کے غیر ملکی اکاوٴنٹس کی رپورٹ مانگی تھی۔جنہوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ گم ہوگئی ہے۔رپورٹ گم ہونے پر کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، عبوری رپورٹ کے مطابق مونس الہٰی اور الطہورکمپنی کی 2007 میں 5 لاکھ روپے زرعی اراضی اور کچھ رقم تھی۔تاہم 2009 میں 70 کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ہوگئے عبوری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مونس الہٰی کی اہلیہ کے اکاوٴنٹس میں دوبئی سے رقم ٹرانسفر ہوئی جس کے حوالے سے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو لکھا گیا۔