تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 15:46

پیپلز پارٹی کا وفد متحدہ سے ملاقات کریگا، حکومت میں شمولیت کا امکان

جنگ نیوز -


کراچی...پیپلز پارٹی کا وفد آج متحدہ قومی مومنٹ کے راہنماؤں سے گورنر ہاؤس سندھ میں ملاقات کرے گا جس کے بعدمتحدہ قومی مومنٹ کی حکومت میں واپسی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے تاہم دیکھنا ہے کہ سید خورشید شاہ اور بابر اعوان کے ساتھ باضابطہ مزاکرات کے بعد تناوٴ مفاہمت کے بعد حکومت میں شمولیت پر منتج ہوتا ہے یا نہیں۔گورنر سندھ نے اس ملاقات سے قبل کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے ایم کیو ایم کردار ادا کرتی رہے گی جبکہ صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ دونوں جماعتوں میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ۔اس کے علاوہ ایم کیوایم کے رہنماحیدر عباس رضوی بھی حکومت میں واپسی کا اشارہ دے چکے ہیں ۔







ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا سیاسی اتحاد اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے بعد تشکیل پایا تھا۔ اس اتحاد میں تین سال، چار ماہ اور دس دنوں کے دوران کئی بار اتار چڑھاؤ کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔پیپلزپارٹی اورمتحدہ قومی موومنٹ کے درمیان دوستانہ تعلقات فروری 2008 کے انتخابات سے قبل شروع ہوئے جب آصف علی زرداری نائن زیرو پہنچے، معافی مانگی بھی اور معاف کیا بھی اورمفاہمت کے ثمرات بلاول ،بختاوراورآصفہ بھٹوزرداری سمیت افضاء الطاف تک پہنچانے کا عزم کیا۔الطاف حسین نے بھی تلخ ماضی بھلا کرنئی راہیں تلاش کرنے پر زور دیا۔تیس اپریل 2008کو سندھ میں شراکت اقتدار کا فارمولا طے پایا۔جنوری 2009میں ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی مرکز میں بھی وزارتوں کی تقسیم پر متفق ہوگئیں۔مئی اور اگست2009 میں صدرزرداری نے لندن میں الطاف حسین سے ملاقات کی تاہم سیاسی مفاہمت کے باوجود ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے راہنما سخت بیانات دیتے رہے،سندھ میں بلدیاتی نظام،این آراو،ریفارمڈ جی ایس ٹی اور ٹارگٹ کلنگ وجہ تنازع بنے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ایم کیوایم حکومت سے علیحدہ ہوئی لیکن وزیراعظم گیلانی نے نا ئن زیرو کا دورہ کیااور جلتی پر پانی پڑگیا لیکن آزاد کشمیر کی کراچی سے دو نشستوں پر انتخابات کے التواء سے شروع ہونے والا تنازع طول پکڑگیااور دونوں کی راہیں جدا ہوگئیں۔ سیاسی اتحاد میں ایم کیوایم نے پانچ مرتبہ سندھ اسمبلی سے واک آؤٹ اورتین مرتبہ بائیکاٹ کیا ایک مرتبہ صوبائی 2باروفاقی وزراء اور ایک دفعہ گورنرسندھ نے استعفے دیئیلندن،دبئی اورابوظبی میں مزاکرات اورکورکمیٹیوں کیاجلاس ہوتے رہے مگرسیاسی اتحاد 27جون 2011کوتین سال ،چار ماہ اور دس دنوں بعد اختتام پزیر ہوگیا۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.