6 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 20:9
اسپاٹ فکسنگ :سلمان بٹ نے اوول ٹیسٹ میں میڈن اوور کھیلنے کی حامی بھری تھی
جنگ نیوز -
لندن…پاکستانی کرکٹرز کیخلاف کرکٹ کرپشن کیس میں سماعت کے دوسرے روز استغاثہ نے اپنے دلائل مکمل کرلئے جبکہ آئی سی سی کی جانب سے سابق چیف انویسٹی گیٹر روی سوانی بطور گواہ پیش ہوئے۔سماعت کے دوسرے روز استغاثہ نے عدالت کو مظہر مجید اور کھلاڑیوں کے درمیان ٹیلی فون اور ایس ایم ایس پر ہونیوالی گفت گوشواہد پیش کیے۔استغاثہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سلمان بٹ نے مظہرمجیدکے کہنے پرمیڈن اوورکھیلنے کی حامی بھری تھی۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ مظہرمجید نے نیوزآف دی ورلڈ کے صحافی کو بتایا کہ پاکستان کے سات کھلاڑی اس کی مٹھی میں ہیں۔اس نے پابندی کا شکارتینوں کھلاڑیوں کے علاوہ کامران اکمل، عمراکمل، وہاب ریاض اورعمران فرحت کانام بھی لیا۔ استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ اوول ٹیسٹ سے پہلے مظہرمجید نے بھارتی بزنس مین سے رابطہ کیا۔بھارتی بزنس مین نے میچ فکس کرانے کے لیے ایک لاکھ ملین ڈالردینے کی پیشکش کی۔دلائل میں یہ بھی کہاگیا کہ ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوینٹی کے دوران بھی سلمان بٹ اورمظہرمجید کے درمیان میچ فکسنگ کے بارے میں بات چیت ہوئی۔استغاثہ نے کہاکہ نیوز آف دی ورلڈ کی دی ہوئی رقم سلمان بٹ اورمحمدعامر کے پاس سے برآمد ہوئی۔سلمان بٹ نے پولیس کو بتایاکہ انہیں مظہرمجید نے اسپانسرشپ کے14ہزارپاوٴنڈز دیے ہیں۔استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعدآئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ روی سوان نے بیان ریکارڈ کایا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اوربھارت کے میچ پر بھاری شرطیں لگائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ انٹرنیشنل میچز پرزیادہ ترشرطیں ممبئی اوردبئی میں لگائی جاتی ہیں۔شرطوں کے لیے کراچی، لندن دبئی اورممبئی سے رابطے ہوتاہے۔آخر میں وکیل صفائی نے روی سوانی سے جرح کاآغاز کیا۔جس کے بعدعدالت نے سماعت پیرتک ملتوی کردی۔