6 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 19:45
ایم کیو ایم کے چار وزرا نے اپنے محکموں کے قلمدان سنبھال لیئے
اے آر وائی - متحدہ قومی موومنٹ کے چار وزراء نے اپنے محکموں کے قلمدانوں واپس سنبھالتے ہوئے کام شروع کردہا ہے جبکہ دیگر دس وزراء کے محکموں کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا ہے جن چار وزراء نے اپنے محکموں کا قلمدان سنبھالا ہے ان میں صنعت و تجارت کا قلمدان رؤف صدیقی ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا قلمدان عادل صدیقی ، سپلائی اینڈ پرائسز کا قلمدان شعیب بخاری اور محکمہ صحت کا قلمدان ڈاکٹر صغیر احمد نے سنبھالا ۔
رواں سال ستائیس جون کو متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم کے وزراء کے قلمدان دفاتر اور گاڑیاں مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ فنگشنل کے حکومت میں شمولیت کے بعد ان کے وزراء اور مشیروں کو دیدی گئی تھیں جس کے باعث ایم کیو ایم کے وزراء دفاتر سے محروم ہیں پہلے روز صرف سات وزراء کو سرکاری گاڑیاں دی جاسکیں دیگر وزراء کو گاڑیاں فراہم کرنے کیلئے نئی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں جبکہ دفاتر دینے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں جس میں ایک ہفتہ تک لگ سکتا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے وزراء کے جو قلمدان مسلم لیگ اور مسلم لیگ فنگشنل کو دیئے گئے ہیں ان میں اوقاف ، ماحولیات و متبادل انرجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل، امور نواجون اور دیہی ترقی شامل ہیں تاہم اس وقت بھی وزیراعلیٰ سندھ کے پاس تیرہ محکمے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی نے پانچ وزراء ایسے ہیں جن کے پاس دو محکمے ہیں جن میں سے ایم کیو ایم کے دس دیگر وزراء کو مختلف محکمے دیئے جانے کا امکان ہے ۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت میں شمولیت کے بعد سندھ میں صوبائی وزراء کی تعداد پچاس ، مشیروں کی تعداد پانچ ، معاون خصوصی کی تعداد سترہ اور دو وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر ہیں جن کو دفاتر ، گاڑیاں ، رہائش اور دیگر مراعات حاصل ہیں۔ اتنی بڑی کابینہ کے سالانہ اخراجات بھی اربوں روپے بتائے جاتے ہیں ۔ بلوچستان کے بعد سندھ واحد صوبہ ہے جہاں اپوزیشن ارکان کی تعداد اب صرف چار ہے جن کا تعلق مسلم لیگ ق ہم خیال گروپ سے ہے۔