6 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 20:20
سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے
جنگ نیوز -
کراچی…سندھ کے بیشترعلاقوں میں لاکھوں سیلاب متاثرین بے یارو مددگارپڑے ہیں ،متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت کے ساتھ صحت عامہ کی سہولتوں کا بھی شدید فقدان ہے اور سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے،متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔میرپورخاص سول اسپتال سمیت سرکاری دفاتراوررہائشی علاقوں سے پانی نہیں نکالا جاسکا ہے ،،ٹنڈو جان محمد،جھڈو اور نوکوٹ کے علاقے اب بھی زیر آب ہیں اوران کادیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ نوکوٹ کے قریب سیم نالے میں پڑنے والا شگاف بڑھ کر3سوفٹ ہوگیا ہے۔ سانگھڑاورنوابشاہ روڈ کئی روز گزرنے کے بعد بھی نہیں کھولا جاسکا ہے،بدین میں ایل بی او ڈی اور پران ندی سے ملحقہ علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔ سیم نالوں کے شگاف پر نہ ہونے سے ملکانی شریف سمیت 2سو سے زائد دیہات میں پانی کی سطح اوربلند ہوگئی ہے۔ سمن سرکار، نیوی چک،زیروپوائنٹ سمیت دیگر علاقوں کا زمینی راستہ بحال نہیں ہوسکاہے۔دادو کے علاقے کاچھو میں پانی کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے،نوابشاہ کی ڈاکٹر کالونی سمیت کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہے اور متاثرین کو غذائی اجناس اور طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔