9 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 17:33
پولیس کی کم نفری کے باعث مسائل پیدا ہورہے ہیں،واجد درانی
جنگ نیوز -
کراچی… شکیل یامین کانگا… ماس ٹرانزٹ سسٹم جب تک نافذ نہیں ہوگا کراچی کا ٹریفک کنٹرول نہیں ہوسکتا، پولیس کی نفری کم ہے ،دس ہزار نفری بڑھائی جارہی ہے جو ایک سال تک پوری ہوجائے گی، موبائل اور رقم چھیننے کے واقعات بڑھ چکے ہیں، جہاں جہاں ان وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے وہاں موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار تعینات کررہے ہیں ان کی تعداد میں بھی اضافہ کرنے کیلئے موٹر سائیکلوں کے آرڈرز دے دیئے ہیں، تھانوں میں مقامی افراد خود تعیناتی سے گھبراتے ہیں اس لئے انہیں کسی اور علاقے میں بھیجا جاتا ہے،یہ بات آئی جی سندھ واجد علی خان درانی نے کھجی گراؤنڈ میں فٹ بال فائنل کے موقع پر جنگ سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں آئے دن ٹریفک جام اورعوام کی پریشانیوں کی وجہ آبادی کا بے پناہ دباؤ ہے، کراچی کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے کئی مسئلے مسائل سامنے آرہے ہیں، میڈیا دفاتر کے باہر سے صحافیوں اور کارکنوں سے موبائل اور رقم چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارادتوں کے حوالے سے آئی جی سندھ کا کہنا تھاکہ اس میں کوئی شک نہیں شہر کی وسعت کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں، ان کو کنٹرول کرنے کیلئے ساٹھ کے قریب موٹر سائیکل سواروں کو ان مقامات پر لگا رہے ہیں جہاں وارداتیں زیادہ ہورہی ہیں، مزید موٹر سائیکلوں کے آرڈرز بھی دے دیئے ہیں اور دو سو کے قریب پولیس موبائل بھی ان وارداتوں پر نظر رکھنے کیلئے مختلف علاقوں میں پھیلائیں گے۔ مختلف علاقوں میں وارادتوں کی روک تھام پر تھانوں میں مقامی افراد کی تعیناتی کے حوالے سے آئی جی کا کہنا تھاکہ یہ سسٹم صحیح نہیں ہے کیونکہ مقامی افراد اپنے علاقے کے لوگوں کو پکڑنے سے گھبراتے ہیں، انہیں دشمنی کا خدشہ رہتا ہے اس لئے مختلف جگہوں پر تقرری کی جاتی ہے۔ سیکوریٹی پلان وقت کے ساتھ ساتھ بنتے ہیں۔