27 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 1:55
نیٹو نے پاکستان پر حملے کی اطلاع میں45 منٹ ضائع کیے،امریکی رپورٹ
جنگ نیوز -
واشنگٹن.. . . .. .امریکی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیٹو اہل کاروں نے اپنے اعلیٰ افسران سے رابطوں میں 45 منٹ تاخیر کی، اگرجلد رابطہ کرلیا جاتا تو کچھ پاکستانی اہل کاروں کی جان ممکنہ طور پر بچ جاتی۔مہمند ایجنسی واقعے پر امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے اپنی رپورٹ میں سے تیس صفحات پر مشتمل حصہ جاری کردیاہے۔ دعویٰ کیاگیا ہے کہ120 اہل کاروں پر مشتمل امریکی اور افغان اہلکاروں کی پیٹرولنگ ٹیم پر پاکستان کی جانب سے حملے میں پہل کی گئی۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ جوابی کارروائی کے لیے امریکی طیارہ اے سی 130 دوکلومیٹرتک پاکستانی حدود میں داخل ہواتھااورجب پاکستانی فوج نے پیغام دیا کہ اسکے اہلکارنشانہ بنائے جارہے ہیں تو 2نیٹو اہل کاروں نے اپنے اعلیٰ افسران سے رابطوں میں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کی اور جب اطلاع پہنچائی گئی توکارروائی پہلے ہی روکی جاچکی تھی۔ امریکی اہل کار کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پیٹرولنگ کے لیے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جاتا ہے تاہم نیٹو کی صرف یہ غلطی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو پیٹرولنگ سے متعلق آگاہ نہیں کیا تھا۔یہ رپورٹ ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے افغانستان میں نیٹوکے کمانڈرجنرل ایلن کوپاکستان کے ساتھ تعلقات بہتربنانے اوراعتماد کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔