تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
2 جنوری 2012
وقت اشاعت: 7:27

پاک افغان طالبان کا تمام توجہ اتحادی افواج پر مرکوز رکھنے کا اعلان

جنگ نیوز -


کراچی… پاکستان اور افغان طالبان نے اپنیاپنے ملکوں کی سیکوریٹی فورسز کے خلاف جنگ روکنے کا عہد کرتے ہوئے اپنی تمام توجہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف کارروائی پر مرکوز کر نے کا اعلان کیا ہے۔طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر کی ہدایت پرپاکستان اور افغانستان کے طالبان نے پانچ ارکان پر مشتمل شوریٰ قائم کی ہے۔شوریٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کی سیکوریٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں نہیں کریں گے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عمر پاکستانی طالبان کی جانب سے کئے جانے والے خود کش حملوں ،تاوان کے لئے اغوا اور معصوم شہریوں کے قتل سے خوش نہیں ہیں۔انہوں نے اِن لوگوں کے پاس غیر اسلامی کارروائیاں یا ملا عمر کو اپنا سپریم لیڈر کہنے سے روکنے کے لئے اپنے سینئر کمانڈرز کو بھیجاتھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عمر اس بات سے بھی پریشان تھے کہ ایسے پاکستانی طالبان کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہوں نے اپنی توجہ افغانستان سے پاکستان کی جانب کر لی ہے،جس کی وجہ سے افغان طالبان کو طاقتور نیٹو اور ایساف فورسز کی جانب توجہ رکھنے میں مشکل ہورہی ہے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عمر چاہتے ہیں کہ پاکستانی طالبان گروپ افغانستان پر توجہ دیں ،جہاں غیر ملکی افواج کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ آپہنچا ہے۔طالبان کے ایک رہنما نے ملاعمر کا یہ بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستانی طالبان سے کہا ہے کہ آپ افغانستان میں مداخلت کرنے والی قوتوں کے خلاف جنگ کرنیکا اپنا اصل مقصد بھول گئے ہیں۔ذرائع کہتے ہیں ملاعمر امریکا کے لئے جاسوسی کرنے والوں کے اغوا اور قتل کئے جانے کی اطلاعات پر بھی بہت پریشان ہیں ،انہوں نے یہ کارروائیاں فوری طور پر روکنے پر زور دیا ہے۔افغان طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر نے والوں اور اغوا برائے تاوان اور بے قصور افراد کا قتل روکنے کے لئے ساتھ کام کرنے کا وعدہ کرنے والوں میں جنوبی وزیرستان کے مولوی نذیر گروپ،حکیم اللہ محسود گروپ،مولانا ولی الرحمنٰ گروپ اور تحریک پاکستان طالبان کے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ اور طاقتور حقانی گروپ شامل ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.