9 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:58
نئے صوبوں کے قیام سے پاکستان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا، الطاف حسین
جنگ نیوز -
لندن…متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہاہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے پاکستان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا اور ملک کے عوام کے درمیان محبت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے ارباب اختیار اور حکومت سے اپیل کی کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے سرائیکی صوبہ ،صوبہ ہزارہ اور صوبہ قبائلستان بنادیا جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان کے عوام کے نام اپنے خصوصی وڈیو پیغام میں کیا۔الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان انگنت مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل میں نئے صوبوں کا قیام بھی انتہائی حساس نوعیت کا مسئلہ ہے ،نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو بعض عناصر غلط معنی دے رہے ہیں اور غلط تاویلات پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ متوسط طبقہ کے ایک خاندان کے افرادجس گھر میں آرام سے رہتے ہوں اس خاندان کے افرادکی تعداد میں اضافہ کے بعد وہی گھر تنگ پڑجاتا ہے اور اس خاندان کے افراد مزید گھر خریدنے یا کرائے پر لے لیا کرتے ہیں ، اس عمل سے رشتے ناتے ٹوٹا نہیں کرتے بلکہ ان کے درمیان محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔اسی طریقہ سے جب کسی بھی ملک کی آبادی میں اضافہ ہوتاہے تو نئے نئے انتظامی یونٹ بنانے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ انتظام حکومت کو بہتر سے بہتر انداز سے چلایا جاسکے ۔ الطاف حسین نے کہاکہ مجھے اس سے غرض نہیں کہ دانشور حضرات کتنے صوبے بنانے کا مشورہ دیتے ہیں البتہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے سرائیکی بیلٹ کبھی صوبہ پنجاب کا اور ہزارہ ڈویژن کبھی خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں رہا اوران علاقوں کی ہمیشہ جداگانہ حیثیت رہی ہے ۔اسی طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے قبائلی علاقوں کو علیحدہ حیثیت دی تھی لہٰذا جتنی جلد ممکن ہو سرائیکی صوبے، صوبہ ہزارہ اور پاکستان کے لئے فاٹا کے عوام کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قبائلی علاقوں پر مبنی صوبہ قبائلستان بنادیا جائے ۔اسی طرح سیاسی ومذہبی جماعتیں اور جس جس علاقے کے عوام کی اکثریت نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومت کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے ۔انہوں نے تاریخ کے طالبعلموں سے بھی درخواست کہ وہ حقائق پر مبنی ان باتوں پر غورکریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ان کو حق دیا جائے اسی میں ملک کی فلاح اور بہتری ہے ۔