5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
سینیٹ میں18ویں ترمیم پر گرما گرم بحث جاری
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8629 -
اسلام آباد . . . پارلے منٹ کے ایوان بالا ، سینیٹ میں آئین کی اٹھارہویں ترمیم پر بحث کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران ، آج پھر ، صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے ایشو پر ارکان اظہارخیال کرتے رہے ? سینیٹ کا اجلاس آج شروع ہوا تو جے یو آئی ف کے حاجی غلام علی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پشاور کی انتظامیہ نے شہر سے باجوڑ، سوات چارسدہ اور دیر کے شہریوں کونکل جانے کا حکم دیا ہے جو، خانہ جنگی کرانے کی کوشش ہے ، جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم نے بھی اس ایشو پر حکومت سے وضاحت مانگی ، اے این پی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ایسا نوٹی فکیشن جاری کرنے والے کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ، ایوان میں 18ویں آئینی ترمیم کے بل پر بحث کے دوران مولانا گل نصیب نے کہا کہ جغرافیائی اور شرعی اعتبار سے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرانا حق تھا ، مسلم لیگ قاف کے محمد علی درانی نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے نام ایشو پردیگر اہم ایشوز کو بلڈوز نہ کیا جائے ،سلیم ایف اللہ خان نے آئینی اصلاحات کمیٹی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں درج صوبائی خودمختاری نہ دی گئی تو یہ خطرناک ہوگا ، سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ کنکرنٹ لسٹ ختم ہونے سے اڑھائی لاکھ وفاقی ملازمین کی ملازمت متاثر ہوگی ،، سینیٹر ڈاکٹرصفدر عباسی نے کہا کہ پختونخواہ نام پر ہزارہ کے عوام کا ردعمل ملحوظ نہ رکھنا بڑی غلطی ہوگی، انہوں نے کہا کہ 2007 میں جو سیاسی توازن قائم ہوا تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے اور سیاسی جماعتوں میں الیکشن نا کرانا درست عمل نہیں ہے ، سینیٹر ایس ایم ظفرنے کہاکہ آئینی ترامیم کا بل جلدبازی میں منظورکرایا جانا ٹھیک نہیں ہے?