5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
ہزارہ کے عوام کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں،الطاف حسین
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8632 -
لندن…متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ ہزارہ کے عوام کی جانب سے نئے صوبہ کی بات کو غیراہم اور وقتی ابال نہ سمجھاجائے بلکہ یہ ہزارہ کے عوام کے برسوں کے دبے ہوئے جذبات کی ترجمانی ہے?انہوں نے یہ بات ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی? الطاف حسین نے ہزارہ ڈویژن کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے پختونخوا رکھا جانا عوامی نیشنل پارٹی کاشروع سے مطالبہ تھااورایم کیوایم نے بھی ہمیشہ اس کی حمایت کی لیکن صوبہ سرحدکانام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھے جانے سے ہزارہ ڈویژن کے عوام میں جو سخت بے چینی پیداہوئی ہے اسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا?انھوں نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے عوام اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کررہے ہیں اورایم کیوایم ہزارہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کااظہارکرتی ہے، ہزارہ کے عوام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے بجائے ان کی آواز کو سنا جائے ? نئے صوبہ کی بات کو غیراہم اور وقتی ابال نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ہزارہ کے عوام کے برسوں کے دبے ہوئے جذبات کی ترجمانی ہے ?انہوں نے مزیدکہاکہ بسااوقات انسانی تاریخ میں چندواقعات وحادثات اورچندوقوع پذیرہونیوالی تبدیلیاں لوگوں کے پوشیدہ اوردبے ہوئے جذبات کوابھاردیتی ہیں? لہ?ذ اس سے پہلے کہ ملک میں بے چینی کی لہرمزیددوڑے، مزیدجانوں کا اتلاف ہو اورفیصلے اس وقت کئے جائیں جب بہت نقصان ہوچکاہو ہزارہ کی سنگین صورتحال پر فی الفورتوجہ دی جائے کیونکہ پاکستان مزیدکسی بڑے بحران،محاذ آرائی اورتصادم کامتحمل نہیں ہوسکتا? الطاف حسین نے کہاکہ اگر دنیا کے بیشترممالک کی تاریخ کاجائزہ لیں توان کی آزادی کے وقت جتنے صوبے تھے وہاں حالات کے تحت تبدیلیاں کی گئیں اور نئے نئے صوبے وجودمیں لائے گئے ? وقت اورحالات کے پیش نظرڈی سینٹرلائزیشن کرنے اورنئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس قائم کرنے سے ملک کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں اورترقی پاتے ہیں? انہوں نے صدرمملکت ،وزیراعظم اورتمام ارباب اختیارسے مطالبہ کیاکہ ہزارہ کے مسئلہ پرفی الفورتوجہ دی جائے،اسے کابینہ اور سینیٹ وقومی اسمبلی میں پیش کیا جائے? اس معاملے پر فوری طورپرگول میزکانفرنس طلب کی جائے اورہزارہ صوبہ ،سرائیکی صوبہ اور جہاں جہاں بھی لوگ اپنے لئے صوبہ کا مطالبہ کررہے ہیں وہاں کے نمائندوں اورسیاسی جماعتوں کو گول میزکانفرنس میں مدعو کیاجائے،ان کی گزارشات اوردلائل سنے جائیں اورنئے صوبوں کے قیام کے معاملے کوعوام کی امنگوں اورخواہشات کے مطابق حل کیاجائے ?انہوں نے کہاکہ ملک کی بقاء و سلامتی،معاشی استحکام ، جمہوریت کے فروغ اورعوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کودورکیاجائے?