5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی اٹھارہویں ترمیم کی منظوری دے دی
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8638 -
اسلام آباد…قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی اٹھارہویں ترمیم کی منظوری دے دی ہے،ایوان میں موجود تمام نوے ارکان نے بل کی حمایت کی?وزیر اعظم نے آئینی اصلاحات کمیٹی کے ارکان کو اعلی? سول ایوارڈز دینے کی سفارش کی ہے? سینیٹ میں اٹھارہویں ترمیم کی سو شقیں کسی مخالفت کے بغیر منظور کی گئیں تاہم دو شقوں کی مخالفت میں بھی ووٹ آئے?ایوان میں موجود16ارکان نے شق نمبر3کی مخالفت جبکہ78نے حمایت کی?اس شق کے تحت سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات پر پابندی ختم کی گئی ہے? صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کے متعلق شق نمبر6کی مخالفت میں بھی12ووٹ آئے تاہم80ارکان نے اس کی حمایت کی ? ،قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی سب سے زیادہ جوش وخروش کا مظاہرہ آئین سے سابق صدرضیاالحق کا نام نکالنے پرکیاگیا?ایوان نے صوبے کے نام کی تبدیلی اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مسلم لیگ ق کی جانب سے پیش کی گئی چھ ترامیم کو مسترد کردیا? وزیر اعظم نے اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کو جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نظام حکومت قائد اعظم کا ویژن تھا اور یہ ملک کی خوش قسمتی ہے کہ تمام ادارے یکجا ہیں ?ان کا کہنا تھا کہ آج فوج اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے جمہوریت کی حمایت کررہی ہے اوریہ بہت بڑی تبدیلی ہے?آج سے پہلے کوئی بھی ترمیم ہوئی وہ ایک کرسی کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی، اگر ادارے مضبوط ہوں گے تو ممکن ہے کہ کرسی بچ جائے، صوبائیحکومت سے گزارش کروں گا کہ ہزارہ کے عوام سے مذاکرات کئے جائیں ،ہزارہ کے عوام سے مذاکرات کرکے جمہوریت کے ثمرات ان تک پہنچائے جائیں گی،سینیٹ کے اجلاس میں چیئرمین سمیت96 ارکان نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر اعظم سواتی سمیت چار ارکان شریک نہ ہوئے?اٹھارہویں ترمیم کی بعض شقوں پر اختلافات بھی سامنے آئے اور ارکان کی جانب سے ترامیم بھی پیش کی گئیں لیکن دونوں ایوانوں نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دی، اگلے مرحلے میں صدر بل پر دستخط کریں گے اور ایک سو دو نئی ترامیم آئین پاکستان کا حصہ بن جائیں گی?