5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
الطاف حسین20برس سے نئے صوبے قائم کرنے کی بات کررہے ہیں، رابطہ کمیٹی
NoImage -
کراچی…متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے مختلف سیاسی رہنماو?ں کی جانب سے ہزارہ صوبہ سمیت نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ آج ثابت ہوگیا ہے کہ برسوں پہلے قائد تحریک الطاف حسین کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی بات حقیقت پسندانہ اور دوراندیشی پر مبنی تھی? ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ قائد تحریک الطاف حسین گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے عوام کی محرومی دورکرنے کیلئے نئے صوبوں کے قیام کی بات کررہے ہیں کہ ملک میں مزید صوبوں کے قیام سے پاکستان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا لیکن اس وقت یہ دیکھا گیا کہ کون کہہ رہا ہے اور یہ نہیں سوچا گیا کہ کیا کہہ رہا ہے ? الطاف حسین نے معروضی حقائق کی بنیاد پرنئے صوبوں کے قیام ، کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ اور مکمل صوبائی خودمختاری کی بات کی توان پر ملک دشمنی اور غداری کامقدمہ چلانے کے مطالبے کئے گئے اوران کے خلاف غداری کے سرٹیفیکٹ جاری کئے گئے ?رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یہ الطاف حسین کی دوراندیشی ہے کہ آج مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو?ں کی جانب سے نہ صرف ہزارہ ڈویژن کے عوام کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے ہزارہ صوبے کے قیام کی بات کی جارہی ہے بلکہ ملک میں مزید نئے صوبوں کے قیام کے بھی مطالبات کئے جارہے ہیں اوراسے حب الوطنی سے تعبیر کیاجارہاہے?رابطہ کمیٹی نے پنجاب ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ دیکھ لیں کہ الطاف حسین نے جب جب عوام کی خواہشات اورامنگوں کی ترجمانی کی وقت آنے پر ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہورہی ہے اور جو عناصر الطاف حسین کی باتوں کو غداری سے تعبیر کرتے رہے ہیں آج وہ عناصر بھی الطاف حسین کے بیان کردہ حقائق کو تسلیم کررہے ہیں جس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگئی ہے کہ الطاف حسین ایک دوراندیش سیاستداں ہیں اور پاکستان کے عوام کی خواہشات اورامنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ مو?قف کااظہارکرتے رہے ہیں? رابطہ کمیٹی نے صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ ہزارہ ڈویژن سمیت دیگر صوبوں کے عوام کے مطالبات کاسنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اورملک میں نئے صوبوں کے قیام کے مسئلہ کے حل کیلئے فی الفورعوام کی نمائندہ جماعتوں پر مشتمل گول میزکانفرنس منعقد کرکے عوامی خواہشات اورامنگوں کے مطابق فیصلے کئے جائیں?