5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
حکومت کا آئندہ مالی سال سے ملک بھر میں وی اے ٹی کے نفاذکا ارادہ
http://www.jang.net/tp_db_agg/taza/12-30-1899_8661 -
اسلام آباد…حکومت آئندہ مالی سال سے ملک بھر میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے لیکن معیشت دان اور تاجربرادری کاکہنا ہے اس ٹیکس سے مہنگائی میں مزید اضافے کے ساتھ براہ راست عام آدمی ہی متاثر ہوگا?حکومت محصولات میں اضافے اور معیشت کی دستاویزی کے لیے ویلیو ایڈد ٹیکس کا نفاذ یکم جولائی 2010 سے کرنا چاہتی ہے? ویلیو ایڈڈ ٹیکس کسی بھی مصنوعات یاخدمات کی قدر میں ا ضافے کی نسبت سے وصول کیا جائے گا?اس طرح کسی بھی مصنوعات کے تیار ہونے کے عمل سے صارف میں ترسیل تک ویٹ یعنی ویلیو ایڈڈ ٹیکس اس کی قیمت میں شامل ہوجائے گا جس کی قیمت بلاآخر صارف کو ہی ادا کرنی ہوگی? ایف بی آر کے مطابق اگر ویٹ کی شرح 15فی صد رکھی جائے تواس کے نفاذ کے پہلے سال میں 125 ارب روپے اضافی محاصل وصول ہوں گے جبکہ یہ ان کاروبار پر لاگو نہیں ہوگا جن کی سالانہ فروخت 75 لاکھ سے کم ہوگی? ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ویٹ کے نفاذ سے اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ ان پر پہلے ہی جنرل سیلز ٹیکس نافذ ہے اورکچھ بنیادی اشیا مثلا دال اور آٹا اس سے مستثن?ی ہوں گے?اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس کی طرح ویٹ بھی بلواسطہ ٹیکس ہے جس کا اثر عام آدمی پر پڑے گا جبکہ حکومت کو محصولات کی وصولی کے لیے براہ راست آمدن پر ٹیکس کا نفاذ کرنا چاہیے اس کے علاوہ ٹیکس چوری کو کم کر کے مہنگائی کے بوجھ کو غریبوں سے کم کرکے ٹیکس چورروں پر ڈالا جائے ?