5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:41
نیویارک ٹائمز اسکوائردھماکا سازش کیس کی تحقیقات کا سلسلہ جاری
جنگ نیوز -
نیویارک ... نیویارک ٹائمز اسکوائردھماکا سازش کیس کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے? تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم کو بیرون ملک سے رقم کی فراہمی سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے? جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا ہے کہ فیصل شہزادنے اکیلے ہی دہشت گردی کی کاروائی کی ?اس کے شدت پسندوں سے براہ راست روابط نہیں تھے?یکم مئی کو نیویارک ٹائمز اسکوائرپرکاربم دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش کا واقعہ پیش آیا?ٹھیک ایک ہفتے بعدگزشتہ رات ٹائمز اسکوائر اس وقت ایک مرتبہ پھر پولیس اور ایف بی آئی کی توجہ کا مرکز بن گیا جب وہاں ایک مشکوک واٹر کولر کی موجودگی کی اطلاع پرعلاقے کو خالی کرالیا گیا?امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق ٹائمز اسکوائر میں اسٹریٹ46پر واقع ایک ہوٹل کے سامنے فٹ پاتھ پرسفید رنگ کا کولررکھا ہوا ملا?پولیس نے فوری طور پرسیونتھ ایوینوکے کئی بلاکس ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کے لیے بند کردیے اورسرچ آپریشن شروع کردیا ?پولیس نے مشکوک کولر کو ایکسرے کے آلات اور بم تلاش کرنے والے کتوں کی مدد سے چیک کیا تو اس میں سے پانی کی بوتلیں اور سینڈوچ برآمد ہوئے جس کے بعدایک گھنٹے کے اندر علاقے کو کلئیر قراردے دیاگیا?دوسری جانب ٹائمز اسکوائر دہشت گردی سازش کے تفتیشی اہلکار ملزم فیصل شہزاد کی مالی معاونت کرنے والے شخص کو تلاش کررہے ہیں?امریکی میڈیا کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فیصل شہزاد نے بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم سے حملے کے لیے استعمال کی گئی گاڑی خریدی تھی?غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی تفتیشی افسران اس بات پر غور کررہے ہیں کہ فیصل شہزاد کو گاڑی خریدنے اور دہشت گردی کے سامان کی خریداری کے لئے کہاں سے اور کس نے پیسہ فراہم کیا ?اطلاعات کے مطابق تفتیشی محکمے کے افسران اس شخص کا پتہ لگانے میں کسی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں ،جبکہ اس کی تلاش جاری ہے?تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا ہے کہ فیصل شہزاد کے شدت پسندوں سے براہ راست روابط نہیں تھے، اور وہ پاکستان میں موجود شدت پسندوں سے متاثر تھا،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کراولی کا کہنا ہے کہ نیویارک ٹائمز اسکوائردھماکا سازش سے متعلق تفتیش جاری ہے، او واقعے سے متعلق پاکستان سے معلومات کا تبادلہ جاری ہے، پاکستان سے مزید تعاون درکار ہے?