5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
وفاق نے مشورے کے بغیر تنخواہیں بڑھادیں ، اب پیسے بھی دے، چوہدری نثار
جنگ نیوز -
اسلام آباد…قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے کہا ہے کہ صوبوں کے ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافے کی بات چل رہی تھی،وفاقی حکومت نے اعتماد میں لیے بغیر 50 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا? یہ کیا بات ہے کہ تالیاں آپ بجوائیں اور بل صوبائی حکومتیں ادا کریں، ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حکومت کی حمایت نہیں کر سکتے جو سپریم کورٹ کے سامنے دیوار بن جائے ، یہی حال رہا تو حکومت5 سال تو کیا5 ماہ بھی پورے نہیں کرے گی ?قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بادشاہت یا رنجیت سنگھ کی حکومت نہیں ، بجٹ بنانے سے پہلے کسی بھی سطح پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ?انہوں نے کہا کہ تنخواہوں میں50 فیصد اضافے کے فیصلے سے صوبوں پر40 ارب کا بوجھ بڑھا ہے، اس سال تنخواہوں میں اضافے کی مد میں صوبوں کے اضافی اخراجات وفاق ادا کرے? چوہدری نثار نے کہا کہ رسمی بجٹ اب اقتصادی کشتی کو کنارے نہیں لگا سکتا، پرویز مشرف والی ٹیم ہی بجٹ بنانے میں آگے تھی، بجٹ میں لوڈ شیڈنگ اورمہنگائی کے لیے کچھ نہیں ہے، ایک طرف سبسڈی ختم اور دوسری طرف صدر ،وزیراعظم اور وزرا کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے? چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ مڈ ٹرم الیکشن ہوں ، آپ ہٹیں یا ہمیں آنے دیں لیکن یہ بھول جائیں کہ اس انداز سے آپ کو حکومت چلانے دیں گے، ملک میں کتا بھی مرے گا تو وزیراعظم کو جواب دینا پڑیگا ، پاکستان کے مفادات کی جہاں بات ہو گی،وہ سیاست نہیں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے? انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ، واپڈا ، ریلوے ، پاکستان اسٹیل سمیت5 اداروں میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے ان اداروں کو ہرسال245 ارب روپے سبسڈی دی جاتی ہے ? اس سے بہتر ہے کہ ان کی نجکاری کر دی جائے، چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال آڈٹ میں490 ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی تھی، ایف بی آر میں500 ارب روپے کی بد عنوانی عام بات ہے?