5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:43
سپریم کورٹ : پنجاب بینک اسکینڈل کی سماعت 18 جون تک ملتوی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ میں پنجاب بینک قرض اسکینڈل کی سماعت میں بینک کے وکیل نے تحقیقاتی افسر تبدیل کئے جانے سے متعلق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن پراعتراض کر دیا،جب کہ اٹارنی جنرل نے نوٹی فکیشن دو روز میں درست کرنے کی یقینی دہانی کروائی ہے?چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب بینک کے قرض اسکینڈل کیس کی سماعت کی ? پنجاب بینک کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی سربراہی قائم مقام چیئرمین کو دینے پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پراسکیوٹر جنرل کے عہدے پر رہنے والے کو دوبارہ یہ عہدہ نہیں دیا جاسکتا?خواجہ حارث نے عدالت کی توجہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے اس نوٹیفکیشن کی جانب مبذول کروائی جس میں پنجاب کے اے آئی جی آفتاب سلطان کواس کیس کا تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے? پنجاب بینک کے وکیل نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں عدالت کے حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا،ان اعتراضات پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو طلب کیا توانہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ تحقیقاتی افسر کا نوٹیفکیشن درست کرنے کے لئے 2 دن کی مہلت دی جائے، عدالت نے مقدمہ کی سماعت اٹھارہ جون تک ملتوی کردی ، ایک موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے تنقیدی ریمارکس میں کہا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا سیکشن آفیسر، سپریم کورٹ سے بھی بڑا ہے ?