تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

ملک میں رمضان المبارک سے قبل چینی کا مصنوعی بحران پیدا کردیاگیا

جنگ نیوز -
کراچی…راجہ کامران…ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک سے قبل چینی کا مصنوعی بحران پیدا کرکے قیمتیں آسمان پر پہنچادی گئی ہیں جس میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس سال 34 لاکھ ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے جبکہ ضرورت 42 لاکھ ٹن کی ہے اس کمی کی وجہ سے صوبہ پنجاب کے ویزر اعلی شہباز شریف نے وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی پیداوار طلب سے کم ہوئی ہے اس لئے حکومت کو فوری طور پر چینی کی درآمد کے لئے اقدامات کرنے چاہیئے ہیں، چینی کی قلت کی صورتحال پر وفاقی حکومت نے چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی اپریل میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو 12 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر تاحال صرف 2 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد چینی درآمد کی جاچکی ہے جبکہ ٹی سی پی مجموعی طور پر 8 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے معاہدے کرچکی ہے۔چینی کی درآمد میں کمی کی وجہ سے ملک میں اس کی قیمت میں اضافے کا عمل دیکھا جارہا ہے ۔ کراچی میں فی کلو گرام چینی 66 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہے، اس وقت سب سے مہنگی چینی جنوبی پنجاب کے علاقوں میں ہے جہاں فی کلو چینی کے دام 71 روپے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے ۔ پاکستان میں چینی گنے سے تیار کی جاتی ہے مگر پانی کی قلت اور شوگر ملوں کی طرف سے کسانوں کو بروقت ادائیگیاں نہ کیئے جانے گنے کی کاشت متاثر کی اور رواں سال گنے کی بوائی میں 8.7 فیصد کمی کا سامنا ہے کیونکہ ملک بھر میں 9لاکھ 39 ہزار ہیکٹر اراضی پر گنا بویا گیا جبکہ گزشتہ سال 11 لاکھ 6 ہزار ہیکٹر پر گنے کی بوائی ہوئی تھی۔ اس فصل سے 47 کروڑ 30 ہزار ٹن گنا حاصل کیا گیا جبکہ گزشتہ سال 56کروڑ 52 ہزار 70 ٹن گنے کی پیداوار ہوئی تھی اس طرح رواں سال گنے کی پیداوار میں 6 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2008 کی فصل سے 63 کروڑ 92 لاکھ ٹن گنا حاصل کیا گیا تھا جو 4سال کا ایک ریکارڈ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی سی پی جو چینی درآمد کررہا ہے اس کی اوسطا لاگت تقریبا 54 ہزار روپے فی ٹن ہے ، ٹی سی پی کے ذریعے چینی صرف یوٹیلیٹی اسٹورز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کی جاتی ہے اور چونکہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 45 روپے فی کلو گرام میں فروخت کی جارہی یعنی حکومت ایک کلو چینی پر 9 روپے کی زرتلافی برداشت کررہی ہے۔ ٹی سی پی ملک بھر کے اسٹورز پر ماہانہ 40 ہزار ٹن چینی فراہم کررہا ہے جو صارفین کے مطابق ناکافی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ سرکاری اداروں کو چینی درآمد کرنے کے لیے 26 ارب 51 کروڑ 30 لاکھ روپے جبکہ شوگر ملوں کو 10 لاکھ ٹن سے زائد چینی کے اسٹاک کے عوض 42 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.