5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
مہمند ایجنسی خود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد105ہوگئی
جنگ نیوز -
پشاور…مہمند ایجنسی دھماکے کے مزید دو زخمی چل بسے جب کہ ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کے بعد اس خود کش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو پانچ ہوگئی ہے ،دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ ہٹا لیا گیا ہے جب کہعوامی نیشنل پارٹی مہمند ایجنسی میں ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف آج صوبے بھر میں یوم سوگ منا رہی ہے۔ یوم سوگ کی مناسبت سے خیبرپختونخوا میں اے این پی کے زیراہتمام قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی تقاریب منعقد ہونگی۔ پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے ضلعی تنظیموں کو اپنے اپنے اضلاع میں یوم سوگ منانے کی ہدایت کی ہے۔ پشاور میں واقع پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز میں قرآن خوانی کی تقریب منعقد ہوگی جس میں پارٹی کے صوبائی اور مقامی عہدیدار اوراراکین پارلیمنٹ شرکت کریں گے ۔علاقے میں آج تیسرے روز بھی سوگ کی فضا ہے۔تحصیل یکہ غنڈ میں جمعہ کی صبح اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے آفس کے باہر خود کش دھماکہ ہوا ۔دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کی قریبی یکہ غنڈ بازار میں تیس دکانیں، دو ہوٹل اور چار گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ تحصیل جیل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد قیدی فرار ہوگئے ۔دھماکے میں ایک سو پانچ افراد جاں بحق اور 96 زخمی ہوئے ۔ تمام زخمیوں کو پشاور کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں چھ خاصہ دار فورس کے اہلکار،ایک اسکول ٹیچر اور سترہ تحصیل امبار امن کمیٹی کے ممبرا ن تھے۔تحصیل پڑانگ غار امن کمیٹی کے سربراہ ملک صاحب زادہ سمیت چودہ افغانی باشندہ بھی دھماکے میں جاں بحق ہوئے جب کہ تاحال چار افغان باشندوں سمیت 13 افراد لا پتہ ہیں ۔ دھماکے کے تیسرے روز مکمل طور پر ملبہ صاف کرلیاگیا ۔تحصیل شب قدر میں انجمن تاجران کی جانب سے ایک روزہ سوگ منایا جارہا ہے اور جامعہ مسجد میں جاں بحق افراد کے لیے قرآن خوانی کی گئی ۔دوسری طرف دھماکے کے تیسرے روز بھی علاقے میں بجلی بحال نہیں کی جاسکی ہے۔شدید گرمی اور بجلی نا ہونے کے باعث علاقے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔۔ایجنسی بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ تاحال دھماکے کے متعلق کسی قسم کی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔