5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
حبیب جالب بلوچ کے قتل کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج جاری
جنگ نیوز -
کوئٹہ…بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کے قتل کے واقعہ کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ان کے قتل کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبے میں چالیس روزہ سوگ اور قومی شاہراہوں پر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔حبیب جالب کے فائرنگ کے واقعہ میں قتل کے بعد پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی اور جناح روڈ بلاک کردیا۔ بعد میں پارٹی کارکن حبیب جالب کی میت لے کر گورنر ہاؤس کے لئے روانہ ہوگئے جہاں جی پی او چوک پر پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ اس دوران پولیس اور مشتعل مظاہرین میں ہاتھا پائی بھی ہوئی جس پر پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کردی۔ کچھ دیر بعد مظاہرین وہاں سے منتشر ہوگئے اور حبیب جالب بلوچ کی میت لے کر ان کے گھر سریاب روڈ روانہ ہوگئے۔ اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں سخت کشیدگی پائی گئی۔ پارٹی کارکنوں نے جیل روڈ، ہدہ ، قمبرانی روڈ، سریاب روڈ اور بروری روڈ پر احتجاج کیا اور روڈز کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ اس دوران سریاب روڈ پر مشتعل افراد نے توڑ پھوڑ بھی کی۔ صوبے کے دیگر علاقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق حبیب جالب بلوچ کے قتل کے واقعہ کے خلاف نوشکی، مستونگ،خضدار، قلات، دالبندین، آواران اور مختلف علاقوں میں شٹر ڈاون ہڑتال اور پہیہ جام کیا جارہا ہے۔ خضدار، منگوچر اور قلات کے علاقوں میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ اور کولپور کے علاقے میں کوئٹہ سبی روڈ بند کردیا گیا ہے۔ حب میں بھی ہڑتال کے دوران تمام کارروباری مراکز بند ہیں ۔سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔حب سے کراچی آنے اور جانے والا ٹریفک بھی معطل ہوکر رہ گیا ہے۔حب سے کوئٹہ جانے والی آر سی ڈی شاہراہ پر بھی ٹریفک منقطع ہونے کی وجہ سے تمام تر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔سرکاری و نجی دفاتر میں حاضری کم ہے جبکہ شہر میں پیٹرول پمپ بند ہونے کہ وجہ سے لوگون کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بی این پی نے حبیب جالب کے قتل کے خلاف صوبے میں چالیس روزہ سوگ اور قومی شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق حبیب جالب بلوچ کی تدفین آج سہ پہر پانچ بجے ان کے آبائی پرکانی آباد قبرستان میں کی جائے گی۔