5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
مقبوضہ کشمیر میں دیرپا امن کیلئے بات چیت کا عمل شروع کیا جائے، عمر عبداللہ
جنگ نیوز -
سرینگر . . . جنگ نیوز . . . مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مجاہدین سمیت ریاست کے تمام طبقوں سے بات چیت شروع کرنے کیلئے سال دو ہزار کی طرز پر حزب المجاہدین کے ساتھ جنگ بندی اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے استعمال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسے ان تمام لوگوں سے غیر مشروط مذاکرات کرنے چاہئیں جو بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حریت رہنماؤں کی طرف سے بات چیت پر خود شرائط عائد کرکے مرکز سے غیر مشروط بات چیت کی توقع رکھنا صحیح نہیں ہے۔ ایک ریاستی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں عمر عبداللہ نے حریت کانفرنس اور دیگر حریت پسند نظریات رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مرکز کو ان تمام لوگوں تک پہنچ کر ان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے چاہیں جو بات چیت کیلئے تیار ہوں۔ اس ضمن میں عمر عبد اللہ نے 10سال قبل سال 2000ء میں بھارتی حکومت کی حزب المجاہدین کیساتھ بات چیت کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا”اْس وقت جب سیز فائر کے نتیجے میں حزب المجاہدین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا تو یہ ایک مثال کے طور پر لی جا سکتی ہے “۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام اٹھانے کیلئے بڑے پیمانے پر’گراؤنڈ ورک‘کی ضرورت ہے۔