تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

پندرہ ارب ڈالر اورطویل منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی،واجد شمس الحسن

جنگ نیوز -
لندن ... برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ بدترین سیلاب سے دو ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تباہی کا شکار علاقوں کی تعمیر نو کیلئے پندرہ ارب ڈالر کی خطیر رقم اور مارشل پلان جیسی طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔برطانوی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ سیلاب کی تباہ کاری کا ابھی پوری طرح تخمینہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔ دو کروڑ لوگوں کے متاثر ہونے سے بحالی اور تعمیر نو کے چیلنج کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ سڑکیں، پُل اور مواصلاتی نظام بہہ گیا ہے۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیکسٹائل کی صنعت کیلئے کپاس سیلاب کی نظر ہوگئی ہے۔ جس سے برآمدات بھی متاثر ہونگی۔ ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ بحالی میں کم سے کم پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ تعمیر نو کیلئے دس سے پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم اور مارشل پلان کی طرز پر طویل مدتی منصوبہ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد تقریبأ دو ہزار ہے۔ اور بیماریاں پھوٹ پڑنے کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔واجد شمس الحسن نے سیلاب کو انیس سو ستّر میں مشرقی پاکستان میں آنے والے اُس سائیکلون سے تعبیر کیا۔ جس کی تباہ کاری سے نمٹنے میں ناکامی پر اُس وقت کی حکومت کیخلاف شدید غم و غصے نے جنم لیا تھا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو انیس سو ستّر کے سائیکلون سے بدتر قراردیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کیلئے امداد اور تعمیر نو کے چیلنج سے نمٹا نہ گیا تو انتہاپسند فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اگر عالمی برادری آگے نہ آئی تو بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.