5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سیاسی قوت ارادی زیادہ اہم ہے،بر طانوی اخبار
جنگ نیوز -
لندن . . . فارن ڈیسک . . . سیلاب،سمندری طوفان اور زلزے جیسے خطرات قدرتی ہیں لیکن آفات قدرتی نہیں ہیں۔ ایسی آفات سے بچاوٴ کے لیے دولت مدد ضرور کرتی ہے تاہمسیاسی قوت ارادی کا عمل دخل زیادہ اہم ہوتا ہے،برطانوی اخبار اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ ہم قدرتی آفات کو نہیں روک سکتے لیکن غریب ممالک کو ان آفات سے پیشگی بچاوٴ کیلئے مدد کر سکتے ہیں۔ان آفات سے غریب ممالک میں بہت زیادہ ہلاکتیں اور معاشی تباہی ہو تی ہیں۔کیلیفورنیا کے زلزلے میں دس افراد ہلاک ہوئے لیکن پاکستان کے اسی طرح کے زلزے میں ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔فرق صرف دولت یا امیری کا نہیں بلکہ حکومتوں اور کمیونٹی کے عمل دخل کا فرق تھا۔جاپان اور نیوزی لینڈ میں لوگ ایسے مقام پر عام طرح کے گھر تعمیر نہیں کرتے جہاں زلزلے کے زیادہ خطرات ہوں بلکہ تعمیرات کے ان بلند معیارات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ امریکا میں ایسے متاثرہ افراد کے لیے انشورنش ،زمین اور خاندانی وسائل سے تلافی ہو جاتی ہے لیکن پاکستان جیسے غریب ملک میں ایسی آفات میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ایسی آفات کے بعد غذا اور گھر ہی نہیں چھنتا بلکہ ایندھن، اوزار،مویشی،بیج اور زمین کی زرخیزی بھی چھن جاتی ہے۔وہ بدقسمت افراد سڑکیں،پل،اسپتال،اسکول،پانی اور بجلی کے ساتھ اپنے خاندانوں سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔روزانہ دو ڈالر پر زندگی گزارنے والے کئی ہفتوں تک اس آمدنی سے دور رہتے ہیں۔ایسے سیلاب ان کے لیے بیماریاں اور غربت کا بھنور لے کر آتے ہیں وہ جو کچھ زندہ رہنے کی امید ہوتی ہے وہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔دنیا ایسے خطرات سے دن بدن پھنستی جارہی ہے۔ شرح پیدائش اموات سے سالانہ سات کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔آفات کی پیشگی اطلاعات اور اس کے متعلقہ ٹیکنالوجی، معلومات اور اقدامات کے متعلق جاپان میں2005کے اجلاس The UN's International Strategy for Disaster Reduction میں پاکستان168ویں درجے پر ہے۔