تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45

قرارداد پاکستان اور قرارداد مقاصد کا مقصد ایک ہی تھا،چیف جسٹس

جنگ نیوز -
اسلام آباد . . . سپریم کورٹ میں 18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت آج بھی جاری رہی ، اس کے دوران آئین کے بنیادی ڈھانچے میں قرار داد مقاصد کی اہمیت ہونے یا نا ہونے پر ججوں نے ریمارکس دیئے جبکہ اس حوالے سے ایڈدوکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث سے بھی کئی سوالات کئے گئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے دلائل جاری رکھے، انہوں نے کہا کہ 1962 کے آئین کو بناتے وقت قرار داد مقاصد میں تبدیلی کی گئی تھی اور فوجی آمر نے اس میں عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے لفظ مکمل کو ختم کردیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ قرار داد مقاصد اور قرارداد پاکستان کو یکجا کرکے پڑھیں تو ملک کی تشکیل کا مقصد سامنے آجائے گا ،قرارداد پاکستان سیاسی دستاویز تھا جس میں بنیادی ڈھانچے کا تذکرہ تھا اور اس میں اقلیتوں کے حقوق کا یقین دلایا گیا تھا ،، جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قرار داد مقاصد کو کبھی آئین کی بنیاد قرار نہیں دیا گیا ، اس قرار داد کی منظوری کے وقت کڑی تنقید بھی ہوئی تھی ، لیاقت علی خان اور عبدالرب نشتر نے اقلیتوں اور مشرقی پاکستان کے ارکان کو یقین دلایا تھا کہ یہ قرار داد محض بنیادی اصول کا کام دے گی ، جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قرارداد مقاصد کی بنیاد پر پارلے منٹ کی قانون سازی کے اختیار کو محدود کیا جارہا ہے ،، خواجہ حارث نے کہا کہ قرار داد مقاصد کا حوالہ ، آئین کا بنیادی ڈھانچے کا تصور اجاگر کرنے کے لئے ہے ،، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا آئین میں بنیادی ڈھانچے کا ذکر نہیں ہے، ہم اسے صرف اخذ کررہے ہیں ،، انہوں نے سوال کیا کہ بنیادی ڈھانچے کے خلاف آئینی ترامیم کا راستہ روک کر کیا آرٹیکل 239 میں ترمیم نہیں کی جارہی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.