5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
امریکہ عرصہ دراز سے دہشت گردی برآمد کر رہا ہے، وکی لیکس
جنگ نیوز -
واشنگٹن . . . فارن ڈیسک . . . امریکی سرزمین سے عرصہ دارز سے دیگر ممالک میں دہشت گردی برآمد کی جارہی ہے ۔اگر یہ خیال اور رجحان وسیع شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ وہ ممالک امریکا کی آئین و قانون سے ماروا کارروائیوں کا حصہ بننے سے انکار کر سکتے ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے معروف ویب سائٹ وکی لیکس کے حوالے سے بتایا کہ امریکا عرصہ دراز سے دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کو ایکسپورٹ کر رہاہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد سی آئی اے نے ایک ریڈ سیل کے نام سے تھنک ٹینک قائم کیا جس کے متعلق اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر جارج جے ٹینیٹ نے الزام عائد کیا کہ یہ تفصیلی حالات کے بارے درست تصویر پیش کرنے کی بجائے دیوانہ اور جذباتی تجزیہ کرتے ہیں۔تین صفحات پر مشتمل ان جامع دستاویزات میں بتایا گیا کہ اگر امریکی باشندے دہشت گردی میں ملوث ہوں تو دیگر ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اور ساتھ دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔ان دستاویزات میں پاکستانی نژاد امریکی ڈیوڈ ہیڈلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا دیگر ممالک کی سرزمین پر دہشت گردی کرانے میں ملوث ہے۔ہیڈلی نے نومبر2008میں لشکر طیبہ کی مدد سے ممبئی میں حملہ کرانے کی منصوبہ بندی کی جس میں160افراد ہلاک ہوئے۔عسکریت پسند تنظیم نے امریکا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان اس کی کارروائی کی تکمیل میں تعاون کیا۔امریکا کا دیگر ممالک کی سرزمین پر دہشت گردی کرانے کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں بلکہ1994میں ایک امریکی یہودی ڈاکٹر باروچ گولڈ اسٹین جو نیویارک سے اسرائیل منتقل ہوا اس نے انتہا پسند گروپ کچ میں شمولیت اختیار کی اور اس نے مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے 29فلسطینوں کو ہلاک کیا۔