5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
سانحہ سیالکوٹ کے بعد اعلیٰ پولیس افسروں کی اکھاڑپچھاڑ
جنگ نیوز -
سیالکوٹ . . . سانحہ سیالکوٹ کے بعد اعلیٰ پولیس افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے ۔ماضی میں بھی کوتاہی یاسنگین غلطی پر پولیس افسران ہٹائے جاتے رہے ہیں ۔ پولیس حلقوں کے مطابق معطلی، محکمانہ انکوائری ان افسران کا کچھ بگاڑ سکی نہ مقدمات کا کوئی اثر پڑا اور وہ انہی عہدوں پر براجمان نظرآئے ۔ سیالکوٹ میں دو سگے بھائیوں کی تشدد سے ہلاکت کے بعد سی ایس پی پولیس افسران کو معطل اور عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں ۔ سی ایس پی پولیس افسران کو نااہلی اور غلطیوں پر سزائیں بھی ملیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہ ہوا۔1994 میں ایس ایس پی جاوید نور کو اس لئے ہٹایا گیا کہ ٹھوکر نیاز بیگ میں کالعدم تنطیم کیخلاف آپریشن کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس کے بعد انہی جاوید نور کو ترقی دے کر پہلے ڈی آئی جی لاہور اورپھر آئی جی آزاد کشمیر لگادیا گیا اورآجکل وہ انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل ہی اسی طرح 1997میں ایک مذہبی تنظیم کی طرف سے لاہور میں ضلع کچہری کو نذرآتش کرنے پر ایس ایس پی ذوالفقار چیمہ کوہٹا دیا گیا تھا ۔ اس سے پہلے 1991 میں بھی انہیں اسلام پورہ میں 13افراد کے قتل کے واقعہ پر ایس پی سٹی کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا ۔1998 میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمدکے موقع پر مظاہرے کے دوران غیر ملکی سفیروں سے بد سلوکی کا واقعہ پیش آیا جس پر ایس ایس پی ملک احمد رضا طاہر کو عہدے سے ہٹا کر فیصل آباد لگادیا گیا لیکن گوجرہ میں عیسائی بستیاں جلنے کے بعد بھی انہیں پھر ہٹادیا گیا لیکن دوبارہ لاہور تعینات کردیا گیا۔ 1999 ایس ایس پی لاہورسعود عزیز اور ڈی آئی جی ملک اقبال کو اس لئے ہٹایا گیا کہ 100بچوں کے مبینہ قاتل جاوید اقبال کے ساتھی اسحاق بلا نے تھانے میں خود کشی کرلی تھی۔ اسکے بعد سعود عزیز کو پہلے ملتان اور بعد میں راولپنڈی لگا دیا گیا جبکہ ملک اقبال کو سیالکوٹ میں 7 ججوں کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجودمعطل کردیا گیا۔اب وہی ملک اقبال آئی جی بلوچستان ہیں۔ اسی طرح 2001 میں ایک مذہبی تنظیم کے مظاہرے کے موقع پر پولیس نے لاہور میں داتا دربار میں شیلنگ کی اور جوتوں سمیت دربار میں گھس گئی جس پر ایس ایس پی لاہور قلب عباس کو ہٹا دیا گیا ۔ وہی قلب عباس کئی پرکشش آسامیوں پر تعینات رہنے کے بعد اب ایڈشنل آئی جی ایلیٹ فورس ہیں۔3 مارچ 2009کولاہورمیں سری لنکن ٹیم کی حفاظت میں کوتاہی پر 3 پولیس افسران کے خلاف محکمانہ انکوئری کی گئی جو بدستور کام کر رہے ہیں ۔اب سیالکوٹ میں دو بھائیوں کی ہلاکت کے واقعے پر ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان معطل جبکہ آر پی او گوجرانوالہ ذوالفقار چیمہ کو ہٹا کر ڈی آئی جی ویلفیئر تعینات کر دیا گیا ہے۔ دیکھیے وقار چوہان کب نئے عہدے پر فائز ہوتے ہیں ذوالفقار چیمہ کو کب ترقی ملتی ہے ۔ پولیس کی کارکردگی شفاف بنانے کے لیے 2002 میں پولیس افسران کو سزا دینے کیلئے ایک آرڈیننس متعارف کرایا گیا جس کے تحت اب تک کوئی پولیس افسر ملازمت سے فارغ ہوا نہ کسی کو سزا ملی ہے۔