تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
23 جولائی 2012
وقت اشاعت: 13:2

پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات محدود نہیں کرسکتی، چیف جسٹس

آج نیوز - سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے،چیف جسٹس کہتے ہیں عدلیہ کے اختیارات پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگا سکتی۔ توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،وفاق کے وکیل شکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی سماعت فل کورٹ کرے، تاہم عدالت نے انکی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی مثال ہے کہ جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے ایسے کیس کا فیصلہ کیا تھا، موجودہ بنچ میں تمام سینئر ججز شامل ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل ایم ظفر نے کہا کہ نیا قانون امتیازی، آئین کے آرٹیکل ایک سو پچیس سے متصادم اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے، اسلام میں کسی کو استثنیٰ نہیں، خلفائے راشدین کی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف وہی قانون بنا سکتی ہے جو آئین سے متصادم نہ ہو، آئین میں پارلیمنٹ کی بالادستی کا تصور محدود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات محدود نہیں کرسکتی، کسی کو یہاں مکمل استثنیٰ نہیں ہے، انیس سو تہتر کے آئین میں کچھ اقدامات توہین عدالت کی تعریف سے مستثنیٰ ہیں، لیکن اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے یہ استثنیٰ ختم کر دیا گیا۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہا کہ توہین عدالت کے خلاف قانون ہمیشہ سے موجود رہا اور رہے گا، پارلیمنٹ کا اختیار صرف توہین عدالت کی کارروائی وضع کرنا ہے، عوامی عہدیداروں کو تحفظ حاصل ہے تو پھر استثنیٰ کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عام قانون کے ذریعے آئین میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ تحریری جواب دینے کیلئے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے، جبکہ وفاق کے وکیل شکور پراچہ نے بھی مہلت کی استدعا کی، لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ہی بہت وقت ضائع ہو چکا ہے، معاملہ بہت اہم ہے جس کا فیصلہ کرنا ضروری ہے،کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.