24 جولائی 2012
وقت اشاعت: 11:42
توہین عدالت سے متعلق درخواستوں کی سماعت جاری
آج نیوز - سپریم کورٹ میں توہین عدالت سے متعلق درخواستوں کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کہتے ہیں کہ قانون سازی کے وقت اس پربحث نہ ہونے کے موقف میں وزن ہے، ریکارڈ پیش کیا جائے۔ توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار کے وکیل لیاقت قریشی نے کہا کہ اس توہین عدالت کے قانون کو بنانے میں کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ قانون سازی کے وقت اس پر درکار بحث اور غور و فکر بھی نہیں ہوا۔ جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ بحث نہ ہونے پر موقف میں وزن ہے، ریکارڈ پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اخبار کی خبروں کو ریکارڈ کا درجہ نہیں دیا جائے گا۔ گزشتہ روز وفاق کے وکیل شکور پراچہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر اس کی سماعت کیلئے فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے اختیارات پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگا سکتی، توہین عدالت قانون میں وہی اضافہ ممکن ہے جس کی آئین اجازت دیتا ہے۔ توہین عدالت قواعد بنانے کے اختیارات پارلیمنٹ ایگزیکٹو کو نہیں دے سکتی اور نہ ہی پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات محدود کر سکتی ہے، سوال یہ ہے کہ ایک شق کالعدم قرار دی گئی تو کیا باقی قانون بچ سکتا ہے، ہمارا پہلا اصول یہ ہے کہ قانون کو بچایا جائے، نئے قانون میں توہین کی تعریف قبول کرلیں تو دیگر کئی قوانین پر اثر پڑے گا۔