25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:30
سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے حکومت کو 8 اگست تک کی مہلت
آج نیوز - سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد کیس میں سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے حکومت کو آٹھ اگست تک کی مزید مہلت دیدی ہے، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اہم اداروں میں نام نہاد تناؤ ہے، جسے ختم کرنے کیلئے توقع کرتے ہیں کہ آئندہ تاریخ تک قابل قبول حل نکال لیا جائے گا۔ این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ عدنان خواجہ اور احمد ریاض شیخ کے معاملے میں تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، لیکن ملک قیوم کے خلاف تحقیقات میں مزید چار ہفتے لگ سکتے ہیں، وہ بیرون ملک زیر علاج ہیں، عدالتی فیصلے کے بعد احمد ریاض شیخ کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر خط لکھنے کا جو حکم دیا تھا اس کا کیا ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ خط نہیں لکھا جا سکتا، عدالت کا بارہ جولائی والا حکم پہلے حکم سے مطابقت نہیں رکھتا، پہلے بھی ایک وزیر اعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج دیا گیا، حکومت عدالتی فیصلے کیخلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنا چاہتی ہے،دوسروں کی طرح ہمیں بھی وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل نے بنچ میں آصف سعید کھوسہ کی موجودگی پر بھی اعتراض کیا، اور کہا کہ وہ بنچ سے الگ ہو جائیں، لیکن عدالت نے انکا اعتراض مسترد کردیا۔ اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے خط لکھنے کیلئے حکومت کو آٹھ اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران حکومت نظرثانی کی درخواست دائر کرنا چاہتی ہے تو کرسکتی ہے، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ غور کریں تو معاملے کا حل موجود ہے، دو اہم اداروں کے درمیان دوری ختم کرنا نا ممکن نہیں ہے، توقع کرتے ہیں کہ آئندہ تاریخ تک قابل قبول حل نکال لیا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے، ہمیں کسی وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا شوق نہیں، معاملات کو سدھاریں تاکہ قیاس آرائیاں ختم ہوں، یہ ہم سب کا ملک ہے اسے ہم سب نے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ خلیل جبران کی بات نہیں کریں گے، کچھ اور کہیں گے۔