7 جولائی 2011
وقت اشاعت: 15:51
کراچی صورتحال پر ایم کیو ایم ایوانوں میں احتجاج کرے گی
اے آر وائی - کراچی : متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں قتل و غارت کے خلاف سینٹ ، قومی و سندھ اسمبلی میں احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا، اراکین سندھ اسمبلی کل سندھ اسمبلی تا پریس کلب امن مارچ بھی کریں گے تاہم اس کے باوجود اگر حکومت نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال قائم کرنے کے لئے غور نہ کیا تو ہڑتال سمیت احتجاج کے دیگر آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم لندن اور کراچی کی رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضا ہارون نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن ، قصبہ کالونی ، گلفام آباد اور گردو نواح کے علاقوں میں مسلح افراد نے چوکیاں قائم کر رکھی ہیں اور وہاں سے مقامی آبادی پر جدید و بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی جا رہی ہے جس سے معصوم شہری شہید ہو رہے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان علاقوں میں دو گروہوں میں تصادم ہو رہا ہے جو حقائق کے منافی ہے ، اصل صورتحال یہ ہے کہ ان علاقوں میں شہریوں پر یک طرفہ حملے ہو رہے ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز شر پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔
رضا ہارون کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں مکینوں کے گھر اور دکانیں لوٹی اور جلائی جا رہی ہیں ، مسافر بسوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے تاہم ان کی جان و مال کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں ۔ معصوم شہری مکمل طور پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔انہوں نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو یقین دہانی کرائی کہ ایم کیو ایم ان کے ساتھ ہے اور ان کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔
رضا ہارون نے مزید بتایا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے اس تمام تر صورتحال میں فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی شمولیت کے لئے رابطہ کیا جائے گا ۔ تینوں اجلاس طلب کرنے کی درخواست تیار کر لی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کل اراکین سندھ اسمبلی وزیر اعلیٰ ہاؤس سے کراچی پریس کلب تک احتجاج کریں گے تاہم اس کے باوجود حکومت نے نوٹس نہ لیا تو پھر احتجاج کے دیگر آپشنز بھی کھلے ہیں جس میں پر امن ہڑتال کی کال بھی دی جاسکتی ہے جو ہمارا جمہوری حق ہے ۔