7 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 8:36
کراچی میں بدامنی کو لسانی رنگ نہ دیا جائے،چیف جسٹس
اے آر وائی - سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر میں بدامنی اورٹارگٹ کلنگ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت جاری ہے۔ لارجر بنچ نے سیکریڑی قانون کوطلب کرلیاہے ۔ چیف جسٹس نے کہاہےکہ کراچی میں آٹھ عدالتیں خالی پڑی ہیں۔ حکومت من پسند ججز کو عدالتوں میں تعینات کرنا چاہتی ہیں۔ خالی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن آج دوران سماعت جاری کئے جائینگے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں بدامنی کو لسانی رنگ نہ دیاجائے ۔ اجمل پہاڑی کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہے ۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے استدعاکی کہ لیاری ٹارچرسیل کی ویڈیو کو منظرعام پر نہ لایاجائے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو عدالت کے نوٹس لینے کے بعد اب احساس ہورہا ہے ۔ چیف جسٹس نےاجمل پہاڑی سے متعلق جوائنٹ انوسیٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ پر آئی جی سندھ سے استفسارکیاکہ آپ نے رپورٹ پڑھی ہے۔ رپورٹ آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہے ۔
منی بس جلانے کے واقعے کی ایف آئی آر کے حوالے سے چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کامران مادھور ی اور سہیل کے ناموں کا اندراج ایف آئی آر میں کیوں نہیں کیا گیا کامران مادھوری اس وقت کہاں ہے۔ آئی جی سندھ نے بتایاکہ کامران مادھوری اسپتال میں زیر علاج ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کل جب یہ آدمی بری ہوگا تو دنیا کہے گی کورٹ ملزمان کو چھوڑ رہی ہے۔