14 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 6:34
سندھ میں قیامت خیز بارشوں سے تباہ کاریاں جاری
اے آر وائی - سندھ میں قیامت خیز بارشوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ دادو میں ایک سو چوالیس ملی میٹر بارش کے باعث گاج ندی میں طغیانی سے جوہی کا علاقہ ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب لاکھوں سیلاب متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔ لاڑکانہ، بدین، ٹنڈو محمد خان، نواب شاہ، میرپورخاص، مٹیاری ، جامشورو اور ٹنڈو الہ یار میں مسلسل بارشوں سےمختلف علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔
شکار پور کے چاروں تعلقوں گڑھی یاسین، خانپور، لکھی غلام شاہ اور شکارپور میں طوفانی بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں بجلی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا، سیلابی صورتحال سے فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
سکھرمیں وقفے وقفے سےبارش جاری ہے بارش میں مچھروں کی افزائش میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جس سے ملیریا اور ڈینگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بدین میں حالیہ بارشوں کی وجہ سےمتاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکیں زیر آب آنے سے بدین کا رابطہ دیگرشہروں سے منقطع ہوگیا ہے۔ جبکہ متاثرین کے کیمپوں تک میں بارش کا پانی داخل ہوگیا ہے۔ نوابشاہ کے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، ٹنڈو محمد خان کے علاقے سعید پور میں بارش کے باعث آلودہ پانی پینے سے تین بچیاں اور ایک حاملہ خاتون جاں بحق ہوگئی۔
میرپور خاص کے علاقے دریا کی طرح نظر آرہے ہیں۔ کئی مقامات سے مکانوں کی چھتیں گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نوشہروفیروز میں مورو کے قریب مکانات گرنے کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔ سانگھڑ میں مکان گرنے سے دو بچے جاں بحق ہوگئے۔ مٹیاری، جامشورو اور ٹنڈو الہ یار میں بھی سیلابی ریلوں کے بعد ابھی تک امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مٹیاری میں بارش کے بعد کچے مکانات گرگئے ۔