6 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 10:22
سپریم کورٹ: کراچی بدامنی ازخود نوٹس کا فیصلہ جاری
اے آر وائی - سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس سے متعلق از خود نوٹس کا فیصلہ جاری کردیا ہے ۔ فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے سنایا ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ بدامنی میں متوازن معاشرے کاقیام ممکن نہیں ہے قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں ۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کوتحفظ دے اور بنیادی حقوق فراہم کرے ۔ ملک میں معاشی سرگرمیاں بلاخوف وخطر جاری رہناچاہیے ۔ ہرشہری کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرے ۔حکومت بھی ریاست کے ساتھ وفاداری ظاہر کرے ۔ امن وامان اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں کسی کو تشدد کانشانہ نہیں بنایاجاسکتاہے ۔ قرآنی تعلیمات آئین پاکستان کا حصہ ہیں فرقہ ورانہ اور لسانیت کے مسائل سے معاشرہ متاثر ہوسکتاہے ۔ جو کوئی کسی ایمان والے کو جان بوجھ کر قتل کریگا اس کی سزا سنگین ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان معمول بن جائے تو نہ حکومت چل سکتی ہے نہ معیشت ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں خطبہ حجتہ الوداع کا بھی حوالہ دیا گیا۔ کراچی میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ روزانہ کا معمول بن گیاہے ۔ کراچی میں امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی گئی ۔ حالات جب خراب ہوئے جب انیس سو بانوے میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا ۔ پچیاسی سے نوے کےدوران مختلف واقعات ہوئے ۔ جس کے دوران کرفیو نافذ رہا۔ ایم کیوایم کے اشتیاق اظہر نے اس وقت کراچی کی صورتحال پر درخواست دائر کی تھی ۔ ایم کیوایم نے درخواست کی دائر کی تھی کہ آئین کے مطابق سیاست کرنے دی جائے ۔ ایم کیوایم کی درخواست کو عدم پیروی کی وجہ سے مسترد کیا گیا تھا ۔