16 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:49
گھیراؤ، پتھراؤ، پانی کی توپوں کا استعمال اور فائرنگ،4 افراد زخمی
جیو نیوز - کراچی..........کہیں گھیراؤ اور پتھراؤ، تو کہیں پانی کی توپوں کا استعمال، کہیں ہوا میں، تو کہیں سیدھی فائرنگ، یہ تھا کراچی میں فرانسیسی جریدے کیخلاف احتجاج کی صورت حال، جس میں فرانسیسی نیوز ایجنسی کے فوٹو گرافر اور ایک نجی ٹی وی کے کیمرا مین سمیت چار افراد زخمی ہوئے اور پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کیخلاف آج کراچی میں بھی بھرپور احتجاج کیا گیا۔باتھ آئی لینڈ کے علاقے میں یہ احتجاج اُس وقت پُرتشدد ہوگیا جب اسلامی جمعیت طلبہ کی احتجاجی ریلی فرانسیسی قونصل خانے کے قریب پہنچی۔ اس مرحلے پر پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جمعیت کے رہنماؤں نے پولیس افسران سے مطالبہ کیا کہ تین افراد کو فرانسیسی قونصل خانے جانے دیں تاکہ احتجاجی یادداشت جمع کرائی جاسکے لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی۔اس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوکر پولیس سے بھڑ گئے۔ مظاہرین کے پتھراو کا جواب پولیس نے شدید شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے دیا جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا بھی بے دریغ استعمال کیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں فرانسیسی خبر ایجنسی کےفوٹو گرافر آصف حسن اورنجی ٹی وی کے کیمرا مین عدیل سمیت چار افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتارکرلیا۔ کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے جنرل سیکریٹری عمیر سعید کا کہنا تھا کہ طلباء فرانسیسی قونصل خانے میں صرف یاداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے طلباء اور صحافیوں پر براہ راست فائرنگ کی جو قابل مذمت ہے ان کا کہنا تھا کہ سادہ لباس میں اہلکار براہ راست فائرنگ کر رہے تھے جس کی فوٹیج میڈیا نے بھی نشر کی ہے ان کا مطالبہ تھا کہ فو ٹو گرافر اور کیمرا مین کو زخمی کرنے والے اہلکاروں کوگرفتار کیا جائے ۔اسلامی جمعیت طلبہ نے واقعے کے خلاف کل (ہفتے کو) کراچی کے تعلیمی اداروں میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔