تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
19 جنوری 2015
وقت اشاعت: 20:0

پاکستان سے بیا ہ کر بھارت آنے والی لڑکیاںخوف کا شکار

جیو نیوز - کراچی… رفیق مانگٹ.......بھارتی اخبار’’ ٹائمز آف انڈیا ‘‘ لکھتا ہے کہ پاکستان سے بیا ہ کر بھارت آنے والی لڑکیوں کو بھارتی پولیس مختلف ہتھکنڈوں سے تنگ کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ضلع اتر کھنڈا کے بھٹ کال میں صورت حال زیادہ پریشان کن ہے۔جن گھروں میں پاکستانی بہو ہے ان کے دروازوں پر سادہ لباس میں پولیس اہلکار وں کا آنا معمول ہے کبھی رات کے وقت آکر ہراساں کرتے ہیں۔پاکستان میں والدین بھارت میں بیاہی اپنی بیٹیوں کے لئے پریشان ہوتے ہیں۔اخبار نے بھٹ کال کے رہنے والے عمران سید کے حوالے سے لکھا کہ ان کی بھابھی کراچی سے بیاہ کے لائی گئی، آئے روز سفید کپڑوں میں پولیس ان کے دروازے پر آکر بھابھی کے بارے پوچھتے ہیں ایک دن وہ رشتہ داروں کے ہاں گئی تو سادہ لباس میں اہلکاروں نے غصے میں کہا کہ بغیر بتائے وہ گھر سے نہیں جاسکتی۔سید عمران خو دوکیل ہیں وہ قوانین سے آگاہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان گھروں کی باقاعدگی سے چیکنگ اور اس کی موجودگی کی توثیق ایک معمول بن چکی ہے جن گھروں میں پاکستانی لڑکی بیاہ کر آئی ہو۔ سید عمران کے بھائی سید اسماعیل آفاق کو انڈین مجاہدین کے ساتھ تعلق کے شبے میں حراست میں رکھا گیا۔ایک 56سالہ بزرگ نے کہا کہ ہمارا کوئی قصور نہیں، ہمیں ہراساں کیا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری بہو پاکستانی ہے۔ مقامی لوگ دیکھتے ہیں کہ پولیس نے ایسے خاندانوں کو ہراساں کرنے کی عادت بنا لیا ہے۔ عمران کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی پولیس رات کو ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ لیکن اس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں۔تقسیم ہند سے دونوں ممالک کے لوگ شادیاں کرتے آرہے ہیں۔ اسلامک ویلفیئر سوسائٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان سے کسی بھی مسلمان سے نکاح نہیں کرتے بلکہ اپنی برادری یا بھٹکالیوں سے کرتے ہیں جو کاروبار کے سلسلے میںیا تقسیم کے وقت پاکستان میں رہ گئے۔ایسی تمام شادیاں بھٹ کال میں انجام پاتی ہیں پاکستان میں نہیں۔ایسی سالانہ تین سے چار اور گزشتہ پانچ سال میں پندرہ سے زائد شادیاں ہوئیں۔اخبار کے مطابق جن خاندانوں کا بھی پاکستان میں رشتہ داری ہے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔بھارت میں تمام پاکستانیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر بھٹ کالیوں پر زیادہ سختی کی جا رہی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.