20 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:22
بجلی کے بقایا جات بھی موجودہ پیٹرول بحران کی بڑی وجہ
جیو نیوز - اسلام آباد........بجلی کے بقایا جات کو بھی موجودہ پٹرول بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت پانی وبجلی نے ادھار تیل لیا، بجلی بنائی، مہنگی بھی کی مگر وصولیوں پر کوئی توجہ نہ دی اور اب بھیگی بلی بنے بیٹھی ہے۔ موجودہ بحران میں وزارت پانی و بجلی کا کتنا ہاتھ ہے؟وزارت پانی وبجلی نے بجلی بنائی مگر ادھار کے تیل پر ۔بجلی تو سرکاری اور نجی صارفین کو ملتی رہی مگر وصولیوں پر کوئی توجہ نہ دی گئی ۔ پیپکو رپورٹ کے مطابق بجلی بقایا جات 587ارب 57کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔رواں مالی سال کے صرف 5ماہ میں بجلی بقایا جات میں برق رفتاری سے 74ارب67کروڑ روپے اضافہ ہو ا۔ اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے اسے وزارت پانی وبجلی کی غفلت کہیئے، سستی یا پھر ناکامی، بجلی تقسیم کار کمپنیز کو کھلی چھٹی ہے،بجلی بقایا جات بڑھتے بڑھتے وفاقی ترقیاتی بجٹ کے حجم سے بھی بڑھ جائیں تو سسٹم خاک چلے گا۔ اب ذرا ایک جھلک بجلی بقایاجات کی بھی دیکھ لی جائے۔ وفاقی حکومت اور اس کے زیر انتظام اداروں کی طرف بجلی بقایا جات ہیں 8ارب 60کروڑ روپے۔ حکومت سندھ کے ذمے ہیں 65ارب 13کروڑ روپے۔ خیبر پختونخوا نادہندہ ہے 20ارب 92کروڑ روپے کا۔ بلوچستان کی طرف ہیں 7ارب 63کروڑ کے بقایا جات۔ پنجاب بھی نادہندہ ہے 5ارب 15کروڑ روپے کا۔ آزاد کشمیر نادہندہ ہے 45ارب 70کروڑ روپے کا۔کے الیکٹرک کی طرف 32ارب روپے کے بقایا جات ہیں۔ نجی صارفین کی طرف بقایا جات ہیں 402ارب روپے اور اس میں بلوچستان میں ٹیوب ویلز کی مد میں 8ارب روپے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وزارت پانی وبجلی صرف سرکاری اداروں سے ہی 185ارب روپے کے بقایا جات وصول کر لے تو نہ صرف پی ایس او کا تیل خریداری کی مد میں سارا قرض اتر سکتا ہے بلکہ لوڈ شیڈنگ اور پٹرول جیسے بحرانوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔